ایران اسرائیل جنگ؛ وزیراعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اہم ترین اجلاس جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی میں ایران اسرائیل تنازع کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
چیئرمین جوائنٹ چیف آف آرمی اسٹاف، تینوں سروسز چیف اور وفاقی وزراء اجلاس میں شریک ہیں۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں عسکری اور سول قیادت شرکت کرے گی جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اپنا حالیہ دورہ امریکہ پر شرکاء کو اعتماد میں لیں گے۔
اجلاس میں ملکی داخلی اور سرحدی سیکیورٹی صورتحال کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
واضح رہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے قبل پاکستان میں ایرانی سفیر کی وزیراعظم شہباز شریف سے اہم ملاقات بھی ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: قومی سلامتی کمیٹی
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔