ایران، اسرائیل تنازع پر اہم مشاورت: وزیراعظم شہبازشریف کے زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا خصوصی اجلاس جاری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہبازشریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی (NSC) کا اہم اور خصوصی اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں جاری ہے، جس میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان حالیہ بڑھتی کشیدگی پر تفصیلی غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں عسکری اور سول قیادت شریک ہے، جن میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر داخلہ محسن نقوی، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، اعلیٰ عسکری حکام اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلے قوم کی آواز، پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیرہے، صدرمملکت
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اپنے حالیہ دورۂ امریکہ پر شرکاء کو اعتماد میں لیں گے، جبکہ خطے کی بدلتی صورتِ حال، بالخصوص ایران سے اظہارِ یکجہتی، سفارتی اقدامات اور پاکستان کی ممکنہ پوزیشن پر اہم فیصلے متوقع ہیں۔
اجلاس میں ملک کی داخلی و سرحدی سلامتی، حساس تنصیبات کی سیکیورٹی، اور خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں قومی سطح کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کا یہ اجلاس موجودہ صورتحال کے تناظر میں فیصلہ کن نوعیت اختیار کر سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
NSC فیلڈ مارشل سید عاصم منیر قومی سلامتی کمیٹی وزیراعظم ہاؤس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر قومی سلامتی کمیٹی وزیراعظم ہاؤس قومی سلامتی کمیٹی
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔