قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس شروع، ایران اسرائیل تنازع سمیت دیگر اہم معلاملات زیرِ غور
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس شروع، ایران اسرائیل تنازع سمیت دیگر اہم معلاملات زیرِ غور WhatsAppFacebookTwitter 0 23 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس شروع ہو گیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں مسلح افواج کے سربراہان، وفاقی وزراء اور متعلقہ حکام شریک ہیں۔
اجلاس میں اسرائیل ایران جنگ سے پیدا شدہ صورت حال پر غور کیا جائے گا اور اسرائیل ایران جنگ کے بالخصوص خطے کی صورتِ حال پر اثرات پر غور ہو گا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں امریکا کے ایران پر حملے سے پیدا صورتِ حال پر بھی غور ہو گا۔
قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں خطے کی موجودہ صورتِ حال، اندرونی و بیرونی سکیورٹی امور پر غور ہوگا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسرائیل کا فردو جوہری تنصیب پر نیا حملہ، تہران میں یونیورسٹی پر بھی بمباری اسرائیل کا فردو جوہری تنصیب پر نیا حملہ، تہران میں یونیورسٹی پر بھی بمباری چین، بنگلہ دیش، پاکستان کے نائب وزرائے خارجہ اجلاس کا مقصد کسی تیسرے فریق کو نشانہ بنانا نہیں، چینی وزارت خارجہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان 8 وزارتوں میں کٹوتی پر اتفاق قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان میں ہاتھا پائی نومئی کے 8 مقدمات: عمران خان کی ضمانتوں کی درخواست پر فیصلہ محفوظ ٹیکس قوانین میں بہتری لا رہے، صنعتی پالیسی کا اعلان جلد کیا جائے گا: وزیر خزانہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: قومی سلامتی کمیٹی
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔