پنجاب میں پہلی بار سائبر پیٹرولنگ اور فوری ریسپانس کی تعیناتی کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (نمائندہ جسارت) محرم الحرام کے دوران پنجاب میں پہلی بار سائبر پیٹرولنگ اور فوری ریسپانس فورس کی تعیناتی جبکہ موبائل فونز کی نگرانی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس 25 جون کو محرم سیکورٹی پلان کی حتمی منظوری دے گا۔سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی زیر صدارت جائزہ اجلاس میں دوران محرم ہر ضلع میں اسپوکس پرسن مقررکرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا کہ سوشل میڈیا پر فیک نیوز اور افواہ سازی کے خاتمے کی حکمت عملی تیار، خلاف ورزی پر پرچے اور سزائیں ہوں گی۔ محرم میں پنجاب بھر میں1 لاکھ 10 ہزار سیکورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے جبکہ 38 ہزار 217 محرم مجالس کی سیکورٹی کے لیے 79 رینجر اہلکار بھی مدد کریں گے، دفعہ 144 نافذ ہوگی۔اجلاس میں صحت، خزانہ، داخلہ، خوراک سمیت تمام صوبائی سیکرٹریز اور ریجنل پولیس افسران نے شرکت کی، جس میں سیکورٹی پلان کے تحت یکم سے 10 محرم سے قبل دوران محرم اور اس کے بعد کے تمام انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا کہ علما اور امن کمیٹیوں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت مکمل کر لی گئی جبکہ اجلاس کو جلوسوں کے راستوں، مرمت و صفائی، بجلی کے تاروں، خراب ٹرانسفارمز سے متعلق اقدامات سے آگاہ کیا گیا، محرم سے متعلق انتظامات اور سیکورٹی دستوں کی پیشگی مشق کی جاچکی ہے، سیف سٹی کیمروں سے مکمل نگرانی ہوگی، شہریوں کی رہنمائی اور جلوس کے شرکا کی سہولت کے لیے واضح نشانات آویزاں ہوں گے۔ مرکزی اور ضلعی کنٹرول رومز، ڈی جی پی آر میں فیک نیوز کی نگرانی کا مرکز بنا دیا گیا۔ایک ہی ڈیزائن کی سبیلیں لگیں گی اور شدید گرمی کے پیش نظر جلوسوں کے اوقات میں تبدیلی کی بھی تجویز ہے۔وزیر اعلیٰ نے سائے اور پانی کی فراہمی، فرسٹ ایڈ پوائنٹس کے قیام، فیلڈ اسپتال، کلینکس آن ویلز کی ہر وقت دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے جلوس کے راستے میں پبلک ٹوائلٹس کے قیام، گٹروں کے ڈھکن چیک کرنے اور ساتھ صفائی کا انتظام یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔اجلاس میں بتایا کہ متبادل ٹریفک، پارکنگ مقامات اور خواتین پولیس اہلکاروں کی فراہمی کے انتظامات بھی کر لیے گئے۔ داتا صاحب اور گنج شکر کے عرس سمیت جھنگ اور دیگر اضلاع میں مذہبی تقریبات کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔خواتین پولیس اہلکاروں کو ڈیوٹی کے دوران ذاتی موبائل فون رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی، ڈرونز کے ذریعے جلوسوں کی نگرانی ہوگی، سیکورٹی فورسز کے سوا اسلحہ پر مکمل پابندی ہوگی، جلوسوں کے داخلی مقامات پر چہروں سے شناخت کرنے والے کیمرے لگائے جائیں گے۔سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ محرم اسلامی کلینڈر کا مقدس مہینہ ہے اور وزیر اعلی مریم نواز نے بہترین انتظامات کی ہدایت کی ہے، شہریوں کے لیے سیکورٹی، سہولت اور صفائی کا بڑی عید کی طرح ریکارڈ قائم کرنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔