data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

تہران: ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل عبدالرحیم موسوی نے کہا ہے کہ جوہری تنصیبات پر امریکی جارحیت نے مسلح افواج کو جوابی کارروائی کے لیے فری ہینڈ دے دیا ہے۔

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیف آف اسٹاف میجر جنرل عبدالرحیم موسوی نے ایران میں 3 جوہری مراکز کو نشانہ بنانے کی امریکی جارحیت کے جواب میں آج جاری کیے گئے پیغام میں کہا کہ ’’مجرم‘‘ امریکا کو جان لینا چاہیے کہ اس نے مسلح افواج کے جوانوں کو اپنے عسکری اور دیگر مفادات کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کا اختیار دے دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے صرف جوابی کارروائی کے معاملے میں افواج کو مکمل اختیار ہی نہیں دیا بلکہ ایران کے لیے صیہونی حکومت کو سزا دینے کے لاتعداد امکانات کے دروازے بھی کھول دیے ہیں۔

میجر جنرل عبدالرحیم موسوی نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ ’ اس حوالے سے ہم کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔’

قبل ازیں ایرانی فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی نے بھی امریکی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا کو ایران کی جانب سے سخت جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران ماضی میں بھی امریکی جارحیت کے سامنے ڈٹا رہا ہے، بشمول 1980 کی دہائی میں ان حملوں کے جب امریکا نے اس وقت کے عراقی آمر صدام حسین کی سربراہی میں ایران پر حملہ آور بعثی فوج کی حمایت کی تھی۔ میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا کہ جب بھی انہوں نے جرائم کیے، انہیں فیصلہ کن جواب ملا اور اس بار بھی انہیں کوئی استثنا نہیں ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امریکی جارحیت کہا کہ

پڑھیں:

ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔

صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔

بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔

اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر
  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار