ایرانی ہیکرز کے سائبر حملوں کا خوف،امریکہ میں ہائی الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
نیویارک (اوصاف نیوز) اسرائیل پر ایرانی حملوں کا تسلسل جاری جبکہ ایران نے امریکہ پر بھی حملوںکا اعلان کردیا. دوسری جانب ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ایران سے وابستہ ہیکرز امریکی نیٹ ورکس پر سائبر حملے کرسکتے ہیں۔
اس حوالے سے امریکا کے محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے نیشنل ٹیررازم ایڈوائزری سسٹم نے تھریٹ الرٹ بھی جاری کردیا۔ تھریٹ الرٹ میں کسی مخصوص دھمکی کا ذکر نہیں کیا گیا
لیکن محکمے کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ایرانی ہیکرز کی طرف سے امریکی نیٹ ورکس پر ہلکی سطح کے سائبر حملے ہوسکتے ہیں، محکمے نے الرٹ میں بتایا کہ ایرانی حکومت سے منسلک سائبر گروپس بھی امریکا کے خلاف کارروائیاں کرسکتے ہیں۔
معروف بھارتی اداکار سلمان خان کے سنگین بیماریوں کا شکارہونے کا انکشاف
امریکی حکام کی جانب سے جاری الرٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ایرانی قیادت اُن امریکی حکام کو بھی سائبر حملوں کا نشانہ بناسکتی ہے جنہیں وہ 2020 میں ایک اعلیٰ ایرانی فوجی کمانڈر کی ہلاکت کا ذمہ دار سمجھتی ہے۔ ہوم لینڈ سکیورٹی کے مطابق امریکی سکیورٹی ادارے تمام تر صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
خیبر میزائل پہلی مرتبہ اسرائیل پر داغ دیا ،اسرائیل میںہر طرف تباہی مچادی، ایرانی انقلابی گارڈ
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: حملوں کا
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ