جنوبی وزیر ستان میں سیکورٹی فورسز کا آپریشن ؛ 11 دہشت گرد جہنم واصل7زخمی
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
سٹی 42:جنوبی وزیرستان کے علاقے سرا روغہ میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات پر آپریشن کیا ،آپریشن میں بھارتی پراکسی 'فتنہ الخوارج' کے گیارہ دہشت گرد واصلِ جہنم کردیے
7 بھارتی حمایت یافتہ خوارج زخمی، علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے ،آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں میجر سید معیز عباس اور لانس نائیک جبران اللہ شہید ہوگئے ،میجر معیز شہید کا تعلق چکوال اور لانس نائیک جبران کا بنوں سے تھا،میجر معیز نے متعدد آپریشنز میں خوارج کے خلاف دلیری سے قیادت کی
کاہنہ میں لڑکی کے ساتھ ریپ ؛ ملزم گرفتار
پاکستانی سیکیورٹی فورسز بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہیں آئی ایس پی آر نے کہا ہمارے شہداء کی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
میجر سید معیذ عباس شاہ شہید کا تعلق ضلع چکوال سے ہے،میجر سید معیذ عباس شاہ شہید کی عمر 37 سال ہے،میجر سید معیذ عباس شاہ شہید نے 14 سال دفاع وطن کا مقدس فریضہ سر انجام دیا،میجر سید معیذ عباس شاہ شہید کے سوگواران میں اہلیہ اور 2 بیٹے شامل ہیں
بانی کی ضد پی ٹی آئی کی پختونخوا حکومت کا بجٹ متنازعہ ہو گیا
26 سالہ لانس نائیک جبران اللہ شہید کا تعلق ضلع بنوں سے ہے،لانس نائیک جبران اللہ شہید نے 8 سال تک وطن عزیر کے دفاع کے فرائض سرانجام دئے ،لانس نائیک جبران اللہ شہید کے سوگواران میں اہلیہ اور 3 بیٹے شامل ہیں
63 ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کے تبادلے
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: میجر سید معیذ عباس شاہ شہید لانس نائیک جبران اللہ شہید
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔