وزیراعظم کا سفارتی وفد کے اعزاز میں عشائیہ، بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب کرنے پر خراج تحسین پیش کیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے سفارتی وفد کو عشائیہ دیا اور دنیا بھر بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف سے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملاقات کی۔
ملاقات میں بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم کو سفارتی وفد کی امریکا اور یورپ میں ملاقاتوں پر بریفنگ دی۔ وزیرِ اعظم نے بھارتی پروپیگنڈا دنیا میں بے نقاب کرنے پر وفد کو خراج تحسین پیش کیا اور وفد کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھاکہ عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کی بہترین ترجمانی پر آپ سب کو مبارکباد دیتاہوں، آپ نے پاکستان کا مقدمہ قومی جذبے سے لڑا اور کامیاب ہو کر لوٹے۔
انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کی قیادت میں وفد نے امریکا، برطانیہ اور یورپ میں پاکستانی مؤقف کی ترجمانی کی اور بلاول بھٹو نے نہایت احسن انداز میں پاکستان کے مؤقف کو بیان کیا، وفد نے پہلگام سے لے کر سندھ طاس معاہدے تک کے واقعات کو درست تناظر میں پیش کیا۔
وزیر اعظم کا کہنا تھاکہ افواج کی عسکری مہارت سے بھارت کو بلاجواز جنگی جنون کی بھاری قیمت اُٹھانا پڑی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ 2025-26 میں تنخواہ داروں سمیت سب طبقات کو ریلیف دینے کی کوشش کی ہے، بجٹ سازی میں تمام اتحادیوں بشمول پیپلز پارٹی کے تعاون پر شکریہ ادا کرتا ہوں اور امید ہے آپ سب کی رہنمائی اور تعاون سے ہم تمام چیلنجز میں سرخرو ہوں گے۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔