وزیر داخلہ گلگت بلتستان کا رہبر معظم اور ایرانی قوم کو خراج تحسین
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
گلگت بلتستان کے وزیر داخلہ شمس الحق لون نے ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کو زبرداست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں انہیں سو توپوں کی سلامی پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے بے سرو سامانی کے باؤجود اپنی ایمانی طاقت سے دنیا کی طاغوتی طاقتوں کو شکست دی۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان کے وزیر داخلہ شمس الحق لون نے ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کو زبرداست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں انہیں سو توپوں کی سلامی پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے بے سرو سامانی کے باؤجود اپنی ایمانی طاقت سے دنیا کی طاغوتی طاقتوں کو شکست دی۔ انہوں نے منگل کے روز اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف صرف ایک ملک اسلامی جمہوریہ ایران تھا جبکہ دوسری طرف پورا عالم کفر تھا، عالم کفر کا منصوبہ تھا کہ وہ ایک گھنٹے میں ایران کو ختم کرینگے، لیکن ایران نے بے سرو سامانی کے باؤجود اپنی ایمانی طاقت سے دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کو شکست دے کر ثابت کیا کہ اگر لیڈر غیرت مند ہو تو دنیا کی کوئی طاقت بھی اسے شکست نہیں دے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کا سب سے بڑا بدمعاش امریکہ ہے اور امریکہ کو جب بھی موقع ملا، اس ںے ہر اسلامی ملک کو نشانہ بنایا، تاریخ میں پہلی بار اسے ایران نے شکست دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔