وفاقی وزیر مصطفی کمال کی زیرصدارت پولیو ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ کے اجلاس، پولیو کی موجودہ صورتحال، درپیش چیلنجز اور آئندہ حکمت عملی پر غور
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جون2025ء)وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پولیو کا خاتمہ محض ایک پروگرام نہیں بلکہ قومی مشن ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں پولیو ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ کے اجلاس کے دوران کیا۔اجلاس میں پولیو کی موجودہ صورتحال، درپیش چیلنجز اور آئندہ حکمت عملی پر غور کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پولیو کے خلاف ہماری جدوجہد میں قیمتی جانوں کی قربانیاں شامل ہیں، پاکستان پولیو فری بنانے کے لیے ہماری سیاسی اور عملی وابستگی غیر متزلزل ہے۔(جاری ہے)
سید مصطفی کمال نے کہا کہ معمول کی ویکسینیشن کو مضبوط بنانا ہماری بنیادی ترجیح ہے، وفاقی ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن کے لیے پیشہ ور ڈی جی کی تقرری کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ مذہبی و سماجی رہنمائوں کی مدد سے انکاری کیسز میں کمی آ رہی ہے، پولیو کے خلاف ہماری حکمت عملی جارحانہ اور سائنسی شواہد پر مبنی ہے، جنوبی خیبرپختونخوا میں رسائی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے صوبائی سطح پر مربوط اقدامات جاری ہیں، پاک افغان سرحدی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے جلد کابل کا دورہ کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ تمام چیلنجز کے باوجود حکومت پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔