— فائل فوٹو 

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما لطیف کھوسہ کا کہنا ہے کہ  امریکا اپنی طاقت سے اسرائیل کے ذریعے رجیم تبدیل کرواتا ہے۔ 

لطیف کھوسہ نے جوڈیشل کمپلیکس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ  پاکستان کی ریاست کو ان لوگوں نے مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ عوام کو حقوق سے محروم کر دیا ہے، پارلیمنٹ کو بے وقعت کر کے رکھ دیا ہے، کوئی قانون نہیں ہے کوئی آئین نہیں ہے۔

لطیف کھوسہ کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی ہے اسے تسلیم نہیں کیا جا رہا۔

یہ بھی پڑھیے مریم نواز کی حکومت کوئی اور چلا رہا ہے: لطیف کھوسہ

اُنہوں نے کہا کہ طاقت کے بل بوتے پر 26 ویں ترمیم کی گئی وہ بھی سب کے سامنے ہے، عدالتیں بھی آزادی سے فیصلےنہیں کر پا رہیں، ہم جب کہتے تھے کہ رجیم چینج وہاں (امریکا) سے ہوا ہے تو ہمارا مذاق اڑاتے تھے۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ تحریک انصاف کے خلاف کیسز میں کچھ نہیں، سننے کو کوئی تیار نہیں، اسمبلی میں بھی مار کٹائی ہو رہی ہے، بانی پی ٹی آئی کے بغیر بجٹ میں معنی خیز شمولیت نہیں ہوسکتی اور نہ ہی کوئی اور فیصلہ عمران خان کی شراکت کے بغیر ہوسکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: لطیف کھوسہ کہا کہ

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار