رقوم کی تقسیم کیلیے بی آئی ایس پی اور ایچ بی ایل کا اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک )بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹر محمد طاہر نور نے سینٹرل زونل آفس کراچی میں پارٹنر بینک حبیب بینک لمیٹڈ (HBL) کے ساتھ ایک تفصیلی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس کا مقصد تیسری سہ ماہی (Q3) کے دوران ادائیگیوں کے عمل میں پیش آنے والے تکنیکی اور انتظامی مسائل کا جائزہ لینا اور آئندہ چوتھی سہ ماہی (Q4) کی قسط کی ادائیگی کے لیے ریٹیل نیٹ ورک کے ذریعے عملی منصوبہ بندی کو حتمی شکل دینا تھا۔اجلاس میں بی آئی ایس پی سندھ کے ڈائریکٹر جنرل ذوالفقار علی شیخ، ڈائریکٹر محمد اکرم اور دیگر افسران نے شرکت کی۔ جبکہ بینک کی جانب سے شیخ عمیر اسد (سینئر پروڈکٹ مینیجر)، سمرین شمشیر (بزنس ہیڈ) اور اللہ نواز (کلسٹر مینیجر) اجلاس میں شریک ہوئے۔ملک بھر میں جاری شدید گرمی کے پیش نظر، بی آئی ایس پی نے حالیہ طور پر کیمپ سائیٹ ماڈل سے ہٹ کر ریٹیل ماڈل کے ذریعے ادائیگی کا عمل شروع کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مستحقین کو بھیڑ بھاڑ سے محفوظ، باوقار اور آسان ماحول میں ادائیگی فراہم کرنا ہے۔اجلاس کے دوران ڈاکٹر طاہر نور نے خدمات کی فراہمی کو شفاف اور مؤثر بنانے کی اہمیت پر زور دیا اور ایچ بی ایل کو ہدایت کی کہ تمام ریٹیل آؤٹ لیٹس پر مستحقین کے لیے پینے کے پانی، سایہ دار انتظار گاہوں اور بیٹھنے کی سہولت فراہم کی جائے۔ڈاکٹر طاہر نور نے اس بات پر زور دیا کہ تمام متعلقہ فریقین کے درمیان مربوط اور مسلسل رابطہ ناگزیر ہے تاکہ ادائیگی کا عمل بروقت، منظم اور شفاف طریقے سے مکمل ہو سکے۔ انہوں نے مستحقین کے تجربے کو بہتر بنانے، تاخیر کم کرنے، اور ادائیگی کے نظام میں شفافیت اور جوابدہی کو مضبوط کرنے پر خصوصی زور دیا۔انہوں نے واضح طور پر کہا کہ کسی بھی قسم کی غیر مجاز آٹو ودڈرال (یعنی مستحقین کی اجازت کے بغیر رقم کی کٹوتی) ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور بینک کو ہدایت کی کہ وہ ایسی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے مضبوط مانیٹرنگ نظام فوری نافذ کرے۔دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایک جامع طریقہ کار اور کنٹرول سسٹم تیار کیا جائے تاکہ تمام شکایات کو بر وقت اور مؤثر انداز میں حل کیا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بی ا ئی ایس پی
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔