(گزشتہ سے پیوستہ)
نتین یاہوکی یہ زہرآلوددھمکی یازبان سے پھسلے الفاظ کہ وہ’’ایران کے بعدپاکستان کی ایٹمی صلاحیت ختم کرے گا‘‘۔یہ محض ایک سیاسی بیان نہیں،بلکہ ایک برہنہ تہذیبی دھمکی ہے۔یہ محض پاکستان کے خلاف ایک لسانی اشتعال نہیں،بلکہ مسلم امہ کے اجتماعی وقارکوچیلنج اوراسلامی دنیا کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔نیتن یاہوجیسے درندے کایہ اشتعال انگیزبیان یقیناصرف خطہ میں ہی نہیں بلکہ دنیا کو ایک انتہائی خوفناک جنگ کی دہلیز پر لاکھڑاکیاہے جس کیلئے ابھی سے سیاسی اورسفارتی انداز میں باورکرانے کی ضرورت ہے کہ کیا واقعی نیتن یاہو اور مودی جیسے فاشسٹ افراد کو دنیا کو تاریک کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے؟
یہ سوال آج ہردانشور،ہرتجزیہ نگار اور ہر عام انسان کی زبان پرہے:کیاواقعی امریکاایران پر حملہ کرے گااورایران کاجواب کیاہوگا؟تاہم اگرایسا ہواتویہ حملہ کسی ملک پرنہیں بلکہ ایک تہذیب،ایک فکراورایک نظریے پرحملہ ہوگا۔ اگرامریکانے ایران پربراہِ راست حملے کی جسارت کی تویہ ایک چنگاری نہیں بلکہ آتش فشاں ثابت ہوگا۔ایران کاردعمل صرف امریکی اڈوں تک محدودنہ ہوگا،بلکہ پورے خطے میں امریکی مفادات کولپیٹ میں لے سکتا ہے۔ عراق، شام، لبنان، اورخلیجی ریاستیںسب اس دائرہ آتش میں آئیں گی۔
ایران کاجواب شایدروایتی نہ ہوبلکہ غیر متوقع، ہمہ جہتی اورفکری سطح پربھی ہوسکتا ہے۔ ایرانی جواب دہی صرف میزائلوں سے نہ ہوگی، بلکہ اس میں وہ فکری شعوربھی شامل ہوگاجو سید الشہداکے لہوسے کشیدکیاگیاہے،اورجوزمانے کے ہریزیدکے خلاف قیام کی علامت بن چکا ہے۔ اگر ایران پرحملہ ہوتاہے توایران کاپہلاردعمل یقینا ان امریکی اڈوں پرہوسکتاہے جوقطر، بحرین، سعودی عرب،کویت اورعراق میں موجودہیں۔یہ صرف عسکری تنصیبات نہیں بلکہ مغربی تسلط کی علامتیں ہیں۔ان پرحملہ گویاامریکاکی ’’ناقابلِ تسخیر‘‘ہیبت کوخاک میں ملاناہوگا۔
چین اورروس کی خاموشی کی حکمت اور شطرنجی چالوں کوبھی نظراندازنہیں کیا جاسکتا۔ روس اورچین اب تک اس سارے معاملے میں پراسرارخاموشی اختیارکیے ہوئے ہیں،مگریہ خاموشی بے معنی نہیں۔ایسے عالم میں جب عالمی سیاست ایک نازک موڑپرہے،چین اور روس کی خاموشی بھی ایک گونج رکھتی ہے۔ان کی خاموشی طوفان سے پہلے کی خاموشی معلوم ہوتی ہے۔ روس،شام میں اپنے تجربے کی بنیادپرمشرقِ وسطی کی حرکیات کوبخوبی سمجھتاہے،جبکہ چین کی توانائی کی ضروریات اسے خلیجی استحکام کاناگزیرخواہاں بناتی ہیں۔چین کا بیلٹ اینڈروڈمنصوبہ اورروس کے مشرقِ وسطی میں بڑھتے ہوئے مفادات شاید انہیں اس کھیل کافریق بننے پرمجبورکریں۔چین کی اقتصادی شاہراہیں اورروس کاشام ویوکرین میں کردار،ان دونوں کواس کھیل کالازمی فریق بناتا ہے۔ممکن ہے کہ یہ دونوں طاقتیں وقت آنے پرایک بڑے اتحادکی بنیادرکھیں جومغربی اجارہ داری کے خلاف ایک نئی عالمی صف بندی کاسبب بنے۔
سوال یہ ہے کہ کیاامت مسلمہ واقعی بے حس ہوچکی ہے؟کیاامت مسلمہ واقعی خوابِ غفلت سے جاگے گی؟یاپھرحسبِ سابق قراردادوں، مذمتوں اور بیان بازیوں تک محدودرہے گی،یاوقت آنے پرتاریخ کوحیران کردینے والی کوئی پیش رفت کرے گی؟کیایہ ممکن ہے کہ ترکی، ملائشیا، ایران، پاکستان اوردیگرممالک کسی نئے اسلامی اتحاد کاپیش خیمہ بنیں، جہاں نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی وفکری محاذ پربھی مشترکہ جدوجہدکی بنیاد رکھی جائے؟ پاکستان ،ترکی،ملائشیاجیسے ممالک کی جانب سے ممکنہ اسلامی عسکری یاسفارتی بلاک نہ صرف ایک سیاسی حکمت بلکہ امت کی فکری وحدت کی آزمائش ہوگی۔ایک فکری اضطراب اس امت کے سوتے ہوئے ضمیرکو جھنجھوڑ رہا ہے، اورشایدوقت آپہنچاہے کہ تہذیبی بیداری کی کوئی شمع روشن کی جائے۔ اب ضرورت اس امرکی ہے کہ پاکستان،ترکی، ملائشیااوردیگرمسلم ممالک مشترکہ سفارتی،اقتصادی اورعسکری محاذکی تیاری کریںیہ فقط ایک سیاسی اتحاد نہیں بلکہ تہذیبی اعادہ اورتاریخی بیداری کاعملی اظہارہوگا۔
اب دیکھناہوگا کہ مودی کی ٹرمپ سے حالیہ فون کال،ایک چال ہے یاچالاکی؟مودی نے کسی تیسرے فریق کی مداخلت کوسختی سے رد کر دیا ہے۔یہ گویاامریکاکوکشمیرکے مسئلے سے دور رکھنے کی ایک کوشش ہے۔فون کال میں اس بات پراصرارکہ وہ کسی تیسرے فریق کوپاک بھارت تنازعے میں شامل نہیں ہونے دیں گے،اس بات کی دلیل ہے کہ بھارت امریکا کی ثالثی کو قبول نہیں کرناچاہتا۔یہ انکارٹرمپ کی سفارتی اہمیت کوزک پہنچاتاہے۔کیاٹرمپ کی خاموشی اس امرکی مظہرہے کہ وہ خودکو اب عالمی ثالث کے کردارسے پیچھے ہٹ جائیں اوردنیابھرمیں بار بار پاک بھارت جنگ میں سیزفائرکاکریڈٹ کے بیانئے کی سبکی قبول کرلیں گے؟کیاٹرمپ اس نظر اندازی کوبرداشت کریں گے؟یاپھراس کاکوئی بدلہ جنوبی ایشیائی سیاست میں تلاش کریں گے؟
پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کی امریکامیں اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں،اورٹرمپ کے ساتھ خصوصی ظہرانہ ایک غیر معمولی پیش رفت ہے۔امریکی اعلیٰ حکام سے ملاقات اور پھرٹرمپ کے ساتھ خصوصی ظہرانہ،بظاہرتوسفارتی کارروائی لگتی ہے، مگراس کے بین السطورکچھ اورکہانی لکھی جارہی ہے۔ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کے کردارکی تعریف،اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیرکی یہ اہم ملاقات کوئی ایسا خاموش معاہدہ ہے جہاں امریکاکو اب خطے میں خصوصاً افغانستان، چین،ایران اور بھارت کے تناظرمیں پاکستان کی ضرورت ہے اور اس بات کابھی اشارہ ہے کہ امریکاپاکستان کوخطے میں متوازن حکمتِ عملی میں اہم سمجھ رہاہے۔ٹرمپ کی تعریف سے ظاہرہے کہ پاکستان اپنی عسکری طاقت کے ساتھ سفارتی قدکوبھی اجاگر کرنے کی افسائش میں ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے پاکستانی کردارکی ستائش، ایک نئی صبح کی نویدبھی ہوسکتی ہے، بشرطیکہ پاکستان اس موقع کوسفارتی،عسکری اور اقتصادی سطح پردانشمندی سے بروئے کارلائے۔ یاد رہے کہ امریکاکی ہمیشہ یہ پالیسی رہی ہے کہ یہ وقت آنے پراپنے مفادات کے حصول کیلئے پاؤں پڑنے میں بھی اتنی ہی عجلت دکھاتے ہیں جتنایہ اپنے مفادات کے حصول کے بعد اپنے اسی اتحادی کو ایک لمحے میں قربان کردینے میں تاخیرنہیں کرتے۔پاکستان کواس کابارہاتلخ تجربہ ہے تاہم پاکستان کواس اہم نکتے کوضرورذہن نشین رکھنا ہوگا۔ تاہم بھارتی مودی کی امریکاکوثالثی سے روکنے کی حالیہ کوشش،ایک جانب ٹرمپ کی تضحیک بھی کرتی ہے اوردوسری جانب علاقائی بالادستی کاعندیہ بھی،وہی پرجوابی طورپرجنرل عاصم منیرکی واشنگٹن میں اعلی امریکی حکام اور ٹرمپ سے ملاقات اوربعد ازاں ظہرانہ میں شرکت، پاکستان کے کردارکوعالمی سیاست میں پھرسے اجاگرکررہی ہے۔
آج کی دنیاکسی عالمی جنگ کے دہانے پر نہیں بلکہ تہذیبوں کے تصادم کے مقام پرکھڑی ہے۔مغرب کے پاس بارودہے،مگرمشرق کے پاس بصیرت۔مغرب کے پاس فوجیں ہیں ، مگرمشرق کے پاس فلسفہ،اورتاریخ نے ہمیشہ فلسفے کو دوام بخشاہے،نہ کہ اسلحے کو۔ٹرمپ، نیتن یاہو، مودی جیسے کرداروقت کے نمائندے نہیں بلکہ وقت کے ردعمل ہیں۔اصل جنگ ان کے اور ہمارے درمیان نہیں،بلکہ انسان کی آزادی، وقار اور خودی کے بقاکی جنگ ہے۔اگرامت مسلمہ آج بیدارہوجائے،تویہ صدی اس کی ہوسکتی ہے ورنہ یہ تاریخ کے قبرستان میں ایک اور المناک صدمے کی شکل میں دفن کردی جائے گی۔
یہ دنیااب پرانی سیاسی حرکیات پرنہیں چل سکتی۔اب بیانیہ وہ جیتے گاجس کے پاس تاریخ کا شعور،تہذیب کاوقاراورفکرکی جولانی ہو۔ مغرب کی طاقتیں شایدہتھیاروں سے جیتنا چاہتی ہیں، مگر مشرق کے پاس ابھی بھی ایک چیزباقی ہے ، ایمان، جسے نہ دبایاجاسکتاہے،نہ خریداجاسکتاہے،اورنہ دھمکیوں سے جھکایاجاسکتاہے۔یہ دنیااب صرف بارود اور اعلانات کی بنیادپرآگے نہیں بڑھے گی۔ اس کامحوروہ تہذیبی ، دینی اورفکری قوت ہے جو صدیوں سے کمزور نہیں ہوتی ۔ ٹرمپ، مودی، نیتن یاہوجیسے فریق وقتی محورہیں، مگراصل جنگ اس فکری دنیاکی بقاکی ہے ۔ اگرامت مسلمہ آج اپناشعورجگا لے،اپنی وحدت میں استقامت سمولے اوراپنے تہذیبی وقارکی حفاظت کرے،تویہ صدی اس کی ہوسکتی ہے ورنہ یہ صدائے تاریخ کے اک ستم زدہ آرشیوکاحصہ بن کررہ جائے گی۔
یہ محض ٹرمپ اورخامنہ ای کااختلاف نہیں، بلکہ تہذیبوں،مفادات،عقائداورنظریات کی وہ کشمکش ہے جس کادائرہ کاراقوامِ متحدہ سے لے کرعرب صحرا،غزہ فلسطین اورکشمیرکی وادیوں تک پھیلاہواہے۔تہذیبوں کی اس جنگ میں مستقبل کے فیصلہ کیلئے اگرامتِ مسلمہ اس نازک موقع پر عصرِ نو کے تقاضوں کو سمجھ کر متحد ہو جائے، تو یہ صدی شاید اس کی بیداری کا دور بن جائے۔ ورنہ تاریخ اپنی گرد میں سب کچھ دفن کر دیتی ہے، جو خود کو پہچاننے سے قاصر ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: نہیں بلکہ کی خاموشی ٹرمپ کی ہے اور کے پاس اس بات
پڑھیں:
امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
اسکردو (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 02 جون 2026ء ) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا اور پورے جی بی کا دورہ کیا اور اسی وقت سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنا جی بی میں نے دیکھا ہے وہ کسی سیاستدان نے نہیں دیکھا۔ ساری جماعتوں کے دورے ملا کر بھی ہمارے دوروں کے مقابلے میں کم ہیں۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کو ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئیں ہیں، بچیوں کو شہید کیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔(جاری ہے)
جس طرح رمضان میں آیتہ اللہ خامنئی کو ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں ہیں ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو ۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشہ بڑھ گئی ہے اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں کی ترقی اصل ترقی ہے۔ قائد عوام شہید ذوالفقار بھٹو نے کسانوں کو زمین مہیا کی۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے لئے عوام کا نعرہ تھا “بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی”۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماﺅوں کی دعاﺅں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کوختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔ آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے Bases کو بند کیا۔ جب حال ہی میں مختلف ممالک میں بم دھماکے ہو رہے تھے تو میں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بم اور شہید بی بی کا ذکر کروں گا تو صدر زرداری کو بھی خراج تحسین پیش کروں گا۔ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ہر لحاظ سے مضبوط ہو صرف پی پی پی ہی معاشی طور پر یہ کام کر سکتی ہے۔ یہ تین نسلوں کی جدوجہد ہے۔ شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے سرداری نظام ختم کیا۔ FCR کا خاتمہ کیا۔ قائدعوام نے بلتستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ گندم اور پٹرول پر سبسیڈی قائدعوام نے دی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ سب کچھ جدوجہد سے حاصل کیا۔ جی بی کو پہلے ناردرن ایریا کہتے تھے صدر زرداری نے جی بی کا نام دیا۔ اب ہم نے مل کر جدوجہد کرکے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کرنا ہے۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔ وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ شہید بی بی نوے کی دہائی میں یہ منصوبہ شروع کرنا چاہتی تھیں لیکن اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ ہم نے یہ منصوبہ 2015 میں شروع کیا اور اس منصوبے کے سربراہ سندھ کے وزیراعلیٰ کو بنایا۔ اس منصوبے میں روزگار کا 80 فیصد تھر کے عوام کو دیا گیا۔ تھر کے منصوبے سے تھرکے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شئیر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ CPEC کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکو ل کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں لیکن دوسرے لوگ غریبوں کا روزگار چھینتے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ امیر کو اور امیر بنائیں گے تو وہ نوکریاں دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔ سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے اور یہ گھر موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔ خواتین کو ان گھروں کا مالک بنایا اور زمین کی یہ منتقلی قائد عوام کے بعد سب سے بڑا منصوبہ ہے کیونکہ یہ زمین بھی خواتین کے نام کر رہے ہیں۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ ہم غریب اور عوام دوست ہیں اسی لئے بی آئی ایس پی اور گھروں کا منصوبہ دیتے ہیں ۔ سندھ میں ہسپتال بنائے، سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یوٹی اور ڈاﺅ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل ، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔ دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشااللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگاکر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے اور آپ کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہوں نے ڈاکٹر مبشر حسن کو ایک تحقیق کرنے کو کہا تھا جس سے 70 کی دہائی میں یہ بات سامنے آئی کہ جی بی میں ہم 50ہزار میگا واٹ بجلی بنا سکتے ہیں جو ہم بنا کر دکھائیں گے۔ یہ منصوبہ اسلام آباد میں کوئی بیوروکریٹ نہیں ہم اور آپ مل کر بنائیں گے اور اسلام آباد کو بجلی بیچیں گے۔ 7تاریخ کو اس صوبے کے عوام کو سوچنا ہے کہ آپس میں لڑ کر کسی اور کو فائدہ نہ پہنچائیں۔ پی پی پی کو بھاری اکثریت ملتی ہے تو ہم مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ہم نے سکردو کو وزیراعلی اور گورنر دیا۔ یہ صرف مہدی شاہ کی عزت نہیں بلکہ سکردو کے عوام کی عزت ہے۔ اب میدان میں نئی نسل آگئی ہے اور آپ کے ووٹ اور ساتھ کی وجہ سے توقیر شاہ کو سکردو 1 سے جتوائیں گے۔ آپ سکردو 2 میں محمد علی شاہ کو ووٹ دیںسکردو 3 سے فدا محمد ناشاد کو جتوانا ہے۔ اسکردو4 میں راجہ ناصر علی خان کو منتخب کرنا ہے۔ خرمنگ کے اقبال حسین کو جتوانا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں شگر سے عمران ندیم کو نہیں جیتنے دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ انہیں جتوانا ہے اور گھانچے1 سے ڈاکٹر عاشق حسین کو منتخب کرنا ہے۔ گھانچے 2 میں میری امیدوار آمنہ انصاری ہیں اور گھانچے 3 میں انجینئر محمد اسماعیل ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ انجینئر محمد اسماعیل کے حلقے سے جی بی ہاﺅسنگ اینی شئیٹو شروع کروں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تمام امیدواروں سے ہاتھ کھڑے کروا کر وعدہ لیا کہ وہ منتخب ہوکر عوام کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے عوام سے بھی وعدہ لیا کہ 7جون کو تیرپر مہر لگائیں تاکہ شہید قائد عوام اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کیا جا سکے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایو س نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔