ترک صدر کی ہیگ میں امریکی ہم منصب سے ملاقات ،علاقائی اور عالمی مسائل ، دو طرفہ تعلقات بارے تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
دی ہیگ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 25 جون2025ء) ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے نیدر لینڈز کے شہر ہیگ میں نیٹو کے سربراہی اجلاس کے موقع پر امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی جس دوران علاقائی اور عالمی مسائل کے ساتھ ساتھ دو طرفہ تعلقات بارے بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔
(جاری ہے)
وام نے تر کیہ کے کمیونیکیشنز ڈائریکٹوریٹ کے حوالے سے بتایا کہ صدر اردوان نے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں سے اسرائیل ایران جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے دیرپا امن، غزہ بحران کے خاتمے اور یوکرین کے حوالے سے بات چیت پر زور دیا۔
صدررجب طیب اردوان نے توانائی، سرمایہ کاری اور دفاع میں خاص طور پر امریکا کے ساتھ تعاون کے مضبوط امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ تعلقات کو آگے بڑھانے سے 100 ارب امریکی ڈالر کا تجارتی ہدف حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ترک خبررساں ادارے انادولو کی رپورٹ کے مطابق صدر اردوان اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں نے اتحاد میں سرکردہ اتحادیوں کے طور پر نیٹو کی ڈیٹرنس مضبوط کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔