سندھ اسمبلی نے نئے مالی سال کے بجٹ کی منظوری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
—فائل فوٹو
سندھ اسمبلی نے نئے مالی سال 26-2025ء کے بجٹ کی منظوری دے دی۔
واضح رہے کہ 13 جون کو سندھ اسمبلی میں بجٹ اجلاس منعقد ہوا تھا جہاں وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بجٹ پیش کیا تھا۔
مراد علی شاہ نے اعلان کیا تھا کہ گریڈ 1 سے 16 تک کے ملازمین کو 12 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس ملے گا، گریڈ 17 سے 22 کے ملازمین کو 10 فیصد ایڈہاک ریلیف دیا جائے گا، پنشن میں 8 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔
سندھ اسمبلی میں بجٹ اجلاس منعقد ہوا جہاں وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بجٹ پیش کیا۔
انہوں نے کہا تھا کہ تعلیم، صحت، انفرا اسٹرکچر اور فلاحی شعبے کے لیے اضافی فنڈز مختص کیا ہے، صحت کا بجٹ پچھلے سال کے 302.
وزیرِاعلیٰ سندھ نے کہا تھا کہ ماحولیاتی لحاظ سے محفوظ زراعت کے فروغ کے لیے ڈرپ اریگیشن پر سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت کلسٹر فارمنگ کے منصوبے شروع کیے جائیں گے۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ تعلیم کے بجٹ کو مرکز سے اسکولوں کی سطح پر منتقل کر دیا جائے گا، اسکولوں کے ہیڈ ٹیچرز کو انتظامی اخراجات کے لیے براہِ راست فنڈز دستیاب ہوں گے۔
انہوں نے کہا تھا کہ معذور افراد کے لیے سہولتیں بڑھائی جائیں گی، سندھ بھر میں یوتھ ڈیولپمنٹ سینٹرز قائم کیے جائیں گے،سینٹرز میں نوجوانوں کو ہنر سکھانے، کیریئر کونسلنگ اور ڈیجیٹل خواندگی کے پروگرامز شروع کیے جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مراد علی شاہ سندھ اسمبلی تھا کہ کے لیے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔