قیام امن کے لیے جو کچھ ہوسکتا تھا کیا، ایران اسرائیل تنازع اب ختم ہوچکا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کی طرف سے دفاعی بجٹ میں اضافے کو فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے اور کہا کہ اس سے قبل امریکا زیادہ حصہ برداشت کررہا تھا، اب یورپ نے اپنے دفاع کی ذمہ داری خود اٹھالی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بجٹ سے فوجی سازوسامان میں اضافہ کرنا چاہیے، امید ہے کہ یہ سازوسامان امریکا میں بنائے جائیں گے کیوں کہ ہمارے پاس بہترین فوجی سازوسامان ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا، ایران نے سرکاری طور پر اعتراف کرلیا
نیدرلینڈ کے شہر ہیگ میں ہونے جاری نیٹو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو ہم نے تباہ کردیا ہے، انہوں نے امریکی افواج کے آپریشن کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ امریکی بی 2 بمبار طیاروں کے ایرانی جوہری مراکز پر حملے نہایت کامیاب رہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ قیام امن کے لیے جو کچھ ہوسکتا تھا ہم نے کیا، ایران اسرائیل تنازع اب ختم ہوچکا ہے، دونوں ممالک معاہدے سے مطمئن ہیں۔ دونوں ممالک نے شدت سے ایک دوسرے کے خلاف لڑا اور دونوں تھک چکے تھے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے ایران پر تیزی سے حملہ کیا اور انہیں جوہری مواد منتقل کرنے کا موقع نہیں ملا، ایران نے امریکی ایئربیس پر جو 14 میزائل داغے وہ ہم نے مار گرائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔