9 مئی مقدمات کی سماعت آج ہو گی، جی ایچ کیو حملہ کیس میں جیل ٹرائل نہ ہونے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
راولپنڈی:
9 مئی کے واقعات سے متعلق 12 اہم مقدمات کی سماعت آج انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں ہوگی۔ جی ایچ کیو حملہ کیس میں بھی آج صرف رسمی کارروائی متوقع ہے، جب کہ جیل ٹرائل ایک بار پھر مؤخر ہونے کا امکان ہے۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ آج کچہری عدالت میں ان مقدمات کی سماعت کریں گے۔
عدالت ذرائع کے مطابق جی ایچ کیو حملہ کیس میں آج صرف تاریخ پڑھے جانے کا امکان ہے، جبکہ کسی قسم کی عملی کارروائی نہیں ہو گی۔
دیگر 11 مقدمات میں عدالت نے ملزمان کو چالان کی نقول تقسیم کرنے کا عمل مکمل کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ اس حوالے سے تمام ملزمان کے نام طلبی کے سمن جاری کر دیے گئے ہیں۔ نقول کی تقسیم مکمل ہونے کے بعد آئندہ سماعت پر فردِ جرم عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
آج کی سماعت میں بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی جیل روبکار پر حاضری لگائی جائے گی، جبکہ دیگر اہم سیاسی رہنماؤں شیخ رشید، عمر ایوب، شبلی فراز اور علی امین گنڈاپور کی بھی پیشی متوقع ہے۔
عدالتی کارروائی میں جی ایچ کیو گیٹ 4 حملہ کیس، آرمی میوزیم پر حملے، صدر حساس عمارت جلانے اور میٹرو اسٹیشن کو نذر آتش کرنے جیسے مقدمات شامل ہیں، جو 9 مئی کو ہونے والے پرتشدد واقعات سے جڑے ہوئے ہیں۔
سماعت کے موقع پر عدالتی احاطے اور اطراف میں سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں، تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جی ایچ کیو کی سماعت حملہ کیس کا امکان
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔