MELBOURNE/SYDNEY:

آسٹریلیا کی خاتون صحافی اینٹونئیٹ لیٹوف نے غزہ میں اسرائیلی کی وحشیانہ کارروائیوں سے متعلق سوشل میڈیا میں پوسٹ پر غیرقانونی طور پر برطرفی کے حوالے سے نشریاتی ادارے اے بی سی کے خلاف مقدمہ جیت لیا اور عدالت نے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔

غیرملکی خبرایجنسی انادولو کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کی صحافی انٹوئینیٹ لیٹوف نے غیرقانونی برطرفی پر اے بی سی کے خلاف مقدمہ جیت لیا اور 70 ہزار آسٹریلوی ڈالر معاوضہ بھی ملے گا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ آسٹریلیا کی فیڈرل عدالت نے نشریاتی ادارے نے خاتون صحافی کو غزہ اسرائیلی مہم کی مخالفت سمیت سیاسی رائے رکھنے کی بنیاد پر برطرف کرکے فیئر ورک ایکٹ کی خلاف ورزی کی ہے۔

لبنانی نژاد آسٹریلوی صحافی کو دسمبر 2023 میں 5 روز کے لیے ملازمت دی تھی لیکن صرف 3 دن کے بعد انہیں برطرف کردیا تھا کیونکہ انہوں نے انسٹاگرام میں ہیومن رائٹس واچ کا غزہ میں جنگ کے حوالے پوسٹ کو یہ لکھ کر جاری کیا کہ ہیومن رائٹس واچ نے رپورٹ کیا کہ بھوک کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

خاتون صحافی کی اس رائے کو اے بی سی نے اپنی ایڈیٹوریل پالیسی کی خلاف ورزی قرار دیا تھا حالانکہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے نے رپورٹ میں تفصیل سے بتایا تھا کہ اسرائیل کس طرح غزہ میں فلسطینیوں کی بھوک کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

صحافی لیٹوف نے اپنی برطرفی کو عدالت میں چیلنج کیا تھا اور مؤقف اپنایا تھا کہ انہیں سیاسی رائے رکھنے، ان کی شناخت اور اسرائیل کے حامی گروپ کی جانب سے لابنگ کے نتیجے میں چینل سے برطرف کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ اسراےیل نے 7 اکتوبر 2023 کو غزہ میں وحشیانہ کارروائیاں شروع کردی تھیں اور اب تک غزہ میں 56 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

عالمی فوجداری عدالت نے گزشتہ برس غزہ میں انسانیت سوز جرائم اور جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور اس وقت کے اسرائیلی وزیر دفاع یوا گیلینٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیا تھا۔

اسرائیل کو عالمی عدالت انصاف میں غزہ پر بدترین کارروائیوں کی وجہ سے فلسطینیوں کی نسل کشی  سے متعلق مقدمے کا سامنا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: آسٹریلیا کی

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے