حکومت نے خبردار کیا ہے کہ جو سرکاری ملازم گرینڈ الائنس کی ہڑتال کی آڑ میں اپنی ڈیوٹی سے غیر حاضر پایا گیا، اسکے خلاف "کار سرکار میں مداخلت" اور حکومتی ضوابط کی خلاف ورزی کے تحت قانونی کارروائی کی جائیگی۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی ہدایات پر صوبائی حکومت نے تمام سرکاری محکموں کو سختی سے آگاہ کر دیا ہے کہ وہ گرینڈ الائنس کی جانب سے جاری ہڑتال کے تناظر میں اپنے ماتحت تمام ملازمین کو فوری طور پر اپنی جائے تعیناتی پر حاضر ہونے کی ہدایت کریں۔ جاری کردہ اعلامیہ میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی کو بھی تعلیمی سرگرمیاں معطل کرنے یا کسی بھی قسم کے سرکاری امور میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت بلوچستان نے خبردار کیا ہے کہ جو سرکاری ملازم گرینڈ الائنس کی ہڑتال کی آڑ میں اپنی ڈیوٹی سے غیر حاضر پایا گیا، اس کے خلاف "کار سرکار میں مداخلت" اور حکومتی ضوابط کی خلاف ورزی کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ایسے کسی بھی اقدام کو ناقابل معافی جرم تصور کیا جائے گا۔

حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سرکاری خزانے سے صرف ان ملازمین کو تنخواہیں جاری کی جائیں گی جو باقاعدہ طور پر اپنی ڈیوٹی پر موجود ہوں گے۔ غیر حاضر ملازمین کی تنخواہیں روک دی جائیں گی اور اُن کی تفصیلات محکمہ خزانہ کو فراہم کی جائیں گی۔ مزید برآں، حکومت بلوچستان نے کنٹریکٹ پالیسی پر سختی سے عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔ جو اساتذہ یا دیگر سرکاری ملازمین اپنی ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہو رہے، انہیں فارغ کرکے نئے اہل افراد کی بھرتی کا عمل شروع کیا جا رہا ہے، تاکہ عوامی خدمات متاثر نہ ہوں۔ تمام ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسرز (DDOs) کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے زیر نگرانی ملازمین کی حاضری یقینی بنائیں اور تمام غیر حاضر اہلکاروں کی فہرست فوری طور پر وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کو ارسال کریں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ عوامی خدمات کے نظام کو سیاسی دباؤ یا کسی بھی قسم کی ہڑتال سے متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا، اور جو عناصر غیر قانونی طریقے سے سسٹم کو مفلوج کرنے کی کوشش کریں گے، ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: گرینڈ الائنس کی اپنی ڈیوٹی

پڑھیں:

کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر

محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔

انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ،  پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے  www.seccap.dgcs..gos.pk  کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔

ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔

ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم