جاپان؛ کم عمر طالبات کی نازیبا تصاویر گروپ میں شیئر کرنے پر 10 اساتذہ گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
جاپان میں مختلف اسکولوں کے 10 اساتذہ کو لڑکیوں کی فحش تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے پر حراست میں لے لیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جاپان میں پولیس نے پرائمری اسکول کے دو اساتذہ کو ساتھی اساتذہ کے ساتھ چیٹ گروپ میں نوجوان لڑکیوں کی نازیبا تصاویر لینے اور شیئر کرنے پر بھی گرفتار کیا ہے۔
مقامی پولیس نے بتایا کہ ایک سرکاری اسکول میں پڑھانے والے 42 سالہ اور 37 سالہ نے 13 سال سے کم عمر لڑکیوں کی نازیبا تصاویر اور ویڈیوز لینے کا اعتراف کیا۔
ان دونوں اساتذہ نے طالبات کی نازیبا تصاویر پرائمری اور جونیئر ہائی اسکول کے اساتذہ کے گروپ میں شیئر کیا گیا تھا۔
اساتذہ کی گروپ چیٹ اس وقت سامنے آئی جب اس میں شامل اساتذہ میں سے ایک کو 15 سالہ لڑکی سے بدسلوکی پر گرفتار کیا گیا تھا۔
گرفتار استاد کے موبائل فون کا فرانزک کرایا گیا جس میں اس چیٹ گروپ کا پتا چلا اور یوں گروپ میں شامل دیگر اساتذہ کو بھی حراست میں لیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ ان میں سے کچھ تصاویر بظاہر اسکولوں میں لی گئی تھیں لیکن یہ واضح نہیں تھا کہ آیا یہ ان اسکولوں کے گروپوں کے ارکان تھے جن میں پڑھایا جاتا تھا۔
یاد رہے کہ مئی 2023 میں جاہان نے جنسی جرائم سے متعلق اپنے صدیوں پرانے قوانین کی وسیع تر نظر ثانی کے ایک حصے کے طور پر بڑے پیمانے پر قانونی اصلاحات کی ہیں۔
جاپان کے جنسی جرائم کے قوانین میں 2023 کی اصلاحات نے بھی عصمت دری کی تعریف کو وسیع کیا اور رضامندی کی عمر کو 13 سے بڑھا کر 16 کر دیا۔
خاص طور پربغیر کسی معقول وجہ کے جنسی انداز میں بچوں کی فلم بندی پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
ان قوانین کی خلاف ورزی پر مجرموں کو تین سال تک قید یا 3 ملین جاپانی ین تک کے جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی نازیبا تصاویر گروپ میں
پڑھیں:
رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
رحیم یارخان میں لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد کر لی گئی، ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 19 جولائی کو نوجوان کو طلب کیا تھا جس کے بعد نوجوان لاپتا ہو گيا تھا۔
ڈی پی او عرفان سموں کے مطابق مقتول نوجوان کے بھائی کی مدعیت میں ایس ایچ او سمیت 5 پولیس اہل کاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مدعی کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 4 روز قبل بھائی کو طلب کیا اور تشدد کرکے قتل کردیا۔
پولیس نے تفتیش کے بعد گرفتار ملزم ایس ایچ او کی نشان دہی پر مقتول نوجوان کی لاش تھانہ صدر صادق آباد علاقہ رانجھی خان میں گنے کی فصل سے برآمد کر لی۔