عالمی پاسپورٹ رینکنگ جاری: پاکستانی پاسپورٹ 13 درجے بہتری کے بعد 100 ویں نمبر پر آ گیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پاکستانی شہریوں کے لیے بین الاقوامی سفر کی راہ کچھ آسان ہو گئی ہے، عالمی شہرت یافتہ ادارے ہینلے اینڈ پارٹنرز کی جانب سے جاری کردہ سال 2025 کی پاسپورٹ رینکنگ میں پاکستانی پاسپورٹ کو 13 درجے ترقی کے ساتھ 100ویں پوزیشن پر جگہ مل گئی ہے۔
یاد رہے کہ 2021 میں پاکستان کا پاسپورٹ دنیا کے بدترین پاسپورٹس میں شامل تھا اور 113ویں نمبر پر موجود تھا، تاہم حالیہ درجہ بندی میں نمایاں بہتری پاکستان کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھی جا رہی ہے۔
رینکنگ کے مطابق دنیا کا سب سے طاقتور پاسپورٹ اس سال بھی سنگاپور کا قرار پایا، جس کے حامل شہری 193 ممالک میں بغیر ویزا یا ویزا آن آرائیول کے داخلے کی سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ فہرست میں جاپان اور جنوبی کوریا مشترکہ طور پر دوسرے نمبر پر موجود ہیں، جبکہ ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، آئرلینڈ، اٹلی اور اسپین تیسرے نمبر پر ہیں۔
امریکی پاسپورٹ اس سال چھٹے نمبر پر آیا ہے، جو دنیا کے 186 ممالک میں ویزا فری یا ویزا آن آرائیول کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ بھارت کا پاسپورٹ عالمی فہرست میں 82 ویں نمبر پر ہے۔
پاکستانی پاسپورٹ کے حامل افراد کو اس وقت 30 سے زائد ممالک میں بغیر ویزا یا ویزا آن آرائیول کی سہولت حاصل ہے۔ ان ممالک میں بارباڈوس، برونڈی، کمبوڈیا، کیپ ورڈے آئی لینڈز، کوموروس، کک آئی لینڈز، جبوتی، گنی بساو، ہیٹی، کینیا، مڈغاسکر، مالدیپ، مائیکرونیشیا، مونٹسریٹ، موزمبیق، نیپال، نیو، پلاؤ، قطر، روانڈا، ساموا، سینیگال، سیشلز، سیرا لیون، صومالیہ، سری لنکا، سینٹ ونسنٹ اینڈ گریناڈائنز، تیمور لیستے، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور تووالو شامل ہیں۔
عالمی رینکنگ میں بہتری حکومت کی جانب سے ویزا پالیسیوں، خارجہ تعلقات اور سفارتی کوششوں کا نتیجہ قرار دی جا رہی ہے، جس سے مستقبل میں پاکستانیوں کے لیے مزید بین الاقوامی دروازے کھلنے کی امید کی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ممالک میں
پڑھیں:
بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔
اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔
اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔
امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔
اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔