data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن / بیجنگ: دنیا کی دو بڑی معاشی طاقتوں امریکا اور چین نے کئی مہینوں پر محیط تجارتی کشیدگی کے بعد بالآخر ایک نئے تجارتی معاہدے پر دستخط کر لیے ہیں، جس کی تصدیق دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت نے علیحدہ علیحدہ بیانات میں کی ہے، جسے عالمی منڈیوں میں استحکام کی امید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کی شب وائٹ ہاؤس میں ایک خصوصی تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے حال ہی میں چین کے ساتھ ایک نئے تجارتی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جو دونوں ملکوں کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کی بڑی پیش رفت ہے،تاہم انہوں نے معاہدے کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

خبر رساں اداروں کے مطابق اس حوالے سے وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ یہ معاہدہ دراصل گزشتہ ماہ جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کا تسلسل ہے، جہاں امریکا اور چین کے نمائندوں نے عارضی تجارتی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔ جنیوا کے بعد لندن میں بات چیت کا دوسرا دور ہوا، جس کے نتیجے میں فریم ورک معاہدے کی بنیاد رکھی گئی، جسے اب باضابطہ شکل دے دی گئی ہے۔

امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک نے بلومبرگ ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں تصدیق کی کہ معاہدے پر 2روز قبل دستخط ہو چکے ہیں، تاہم انہوں نے بھی تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ مزید وضاحت آئندہ دنوں میں سامنے لائی جائے گی۔

اُدھر چین کی وزارتِ تجارت نے بھی اس معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقین فریم ورک معاہدے کے تمام نکات پر متفق ہو چکے ہیں۔ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ چین برآمدی کنٹرول کے تحت آنے والی اشیا کے اجازت نامے قانون کے مطابق جاری کرے گا اور اس کے بدلے میں امریکا چین پر عائد چند اہم تجارتی پابندیاں واپس لے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ صرف تجارتی توازن ہی نہیں بلکہ دوطرفہ بھروسے کی فضا کو بحال کرنے کی بھی ایک بڑی کوشش ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان ٹیرف جنگ، پابندیوں اور سپلائی چین کے بحران نے عالمی معیشت کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رکھا تھا۔

واضح رہے کہ چین نے اپریل میں امریکی پابندیوں کے ردعمل میں نایاب معدنیات، میگنیٹس اور دیگر صنعتی خام مال کی برآمدات معطل کر دی تھیں، جس سے دنیا بھر کی آٹو، ڈیفنس اور سیمی کنڈکٹر انڈسٹری بری طرح متاثر ہوئی۔

اس کے جواب میں امریکا نے بھی چین کو سیمی کنڈکٹر ڈیزائن سافٹ ویئر، طیاروں اور دیگر حساس ٹیکنالوجیز کی برآمد پر پابندی لگا دی، جس سے نہ صرف بیجنگ کے صنعتی منصوبے متاثر ہوئے بلکہ دونوں ممالک کی باہمی تجارت بھی تاریخی سطح پر کم ہو گئی۔

اگرچہ دونوں طاقتوں کے مابین حالیہ معاہدے کی مکمل تفصیلات فی الحال منظر عام پر نہیں آئیں، تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدے کے اہم نکات میں چین کا نایاب معدنیات پر سے برآمدی پابندیاں نرم کرنا، امریکا کی جانب سے حساس ٹیکنالوجیز پر عائد جزوی پابندیاں ہٹانا، ٹیرف کی سطح کو 2019 کی پوزیشن پر لانا، سیمی کنڈکٹر اور ہوا بازی کی صنعت میں مشترکہ تعاون کی شروعات اور ایک سالہ جائزہ مکینزم کے ذریعے معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی شامل ہو سکتا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر اس معاہدے کو ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے تجارتی مشیر نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ عالمی تجارتی نظام میں استحکام پیدا کرے گا اور ترقی پذیر ممالک کی برآمدات پر بھی مثبت اثرات ڈالے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: معاہدے کی معاہدے پر کہا کہ چین کے

پڑھیں:

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جمعہ سے پاکستان، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) نافذ کر رہی ہے۔

امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا۔ یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت جمعہ کو ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے  باہمی  ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے۔ ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف: عالمی مارکیٹ میں کس ملک کو کتنا نقصان ہوا؟

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

پاکستان سمیت کن ممالک پر 10 فیصد ٹیرف؟

حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

عالمی ردعمل

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

قانونی ماہرین کی رائے

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف اسٹاک مارکیٹ لے بیٹھا، کملا ہیرس کی پیشگوئی سچ ثابت

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تجارتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا، سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھانا اور درآمدی تجارت پر سخت نگرانی برقرار رکھنا ہے، تاہم ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اس سے عالمی تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ اور امریکی صارفین کے لیے درآمدی اشیا مہنگی ہونے کا خدشہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ٹرمپ ٹیرف

متعلقہ مضامین

  • پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل