خیبرپختونخواہ حکومت کا تاثر غلط جارہا ہے وضاحت دی جائے(عمران خان )
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
(کوہستان میگاکرپشن اسکینڈل)
اسیکنڈل کس وقت کا ہے،کرپشن کے اصل ذمے دار کون ہیں؟،عوام کے سامنے اصل حقائق لائے جائیں
اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ایک روز قبل بیرسٹر سیف کی ہونیوالی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی
کوہستان میگاکرپشن سکینڈل میں ہماری حکومت کا تاثر غلط جارہاہے،بانی پی ٹی آئی عمران خان کی خیبرپختونخواہ کو وضاحت دینے کی ہدایت کر دی،اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ایک روز قبل بیرسٹر سیف کی ہونے والی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی جس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کوہستان سکینڈل پر کے پی حکومت کو وضاحت دینے کی ہدایت کی ہے۔ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ وضاحت دی جائے کہ کرپشن کے اصل ذمے دار کون ہیں؟۔ کوہستان سیکنڈل کس وقت کا ہے، سکینڈل سے ہماری حکومت کا غلط تاثر جا رہا ہے۔اس پر وضاحت دی جائے کہ کرپشن کے اصل ذمے دار کون ہیں؟ عوام کے سامنے اصل حقائق لائے جائے۔ مشیر اطلاعات خیبرپختونخواہ بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ ملاقات میں خیبرپختونخواہ بجٹ، کوہستان سکینڈل اور دیگر امور پر بات ہوئی۔بانی پی ٹی آئی نے بلین ٹری منصوبہ فعال کرنے اور کلائمیٹ چینج پر خصوصی توجہ دینے کی بھی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخواہ حکومت صحت اور تعلیمی معیار بہتر بنانے پر کوئی سمجھوتہ نہ کرے۔خیال رہے کہ گزشتہ روزکوہستان میں 40ارب کا میگا کرپشن سکینڈل میں اہم پیش رفت سامنے آئی تھی۔نیب نے 5 ارب روپے کے مشکوک بینک اکانٹس منجمد کردئیے جبکہ ملزمان کے گھروں سے غیر ملکی کرنسی وسونابرآمدکرلئے گئے جبکہ کئی جائیدادیں اور قیمتی گاڑیاں تحویل میں لے لی گئیں تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔