مریم نواز کیخلاف احتجاج پر اپوزیشن کے 26 ارکان 15 دن کے لیے معطل
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کی جانب سے وزیر اعلیٰ مریم نواز کے خلاف احتجاج مہنگا پڑ گیا۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے ایوان میں غیر پارلیمانی رویے پر اپوزیشن کے 26 ارکان کو 15 دن کے لیے معطل کر دیا ہے۔
یہ اقدام اُس وقت سامنے آیا جب گزشتہ روز ایوان کے اجلاس میں اپوزیشن نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی موجودگی میں شور شرابا کیا اور ’چور چور‘ کے نعرے لگائے۔
اپوزیشن ارکان نے اپنی نشستوں سے کھڑے ہو کر احتجاج کیا، پلے کارڈز لہرائے اور ایوان کا ماحول کشیدہ کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب اسمبلی میں مریم نواز نے غصے سے دیکھا تو ڈپٹی اسپیکر ،وزرا نے اپوزیشن کی طرف دوڑ کیوں لگائی ؟
اسپیکر نے اس رویے کو ایوان کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فوری کارروائی کا اعلان کیا اور متعلقہ 26 ارکان کی 15 روزہ معطلی کا حکم دیا۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب پنجاب میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے بدعنوانی اور گورننس کے حوالے سے سخت تنقید کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ اپوزیشن ایوان کی کارروائی کو روک کر عوامی مسائل پر بحث سے فرار چاہتی ہے۔
اسپیکر کے فیصلے کے بعد اپوزیشن نے اس معطلی کو غیرجمہوری قرار دیتے ہوئے احتجاج کا اعلان کیا ہے، جبکہ حکومتی بینچز اسے ایوان کے نظم و ضبط کی بحالی کے لیے ضروری قدم قرار دے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اپوزیشن پنجاب اسمبلی مریم نواز معطلی نوٹیفیکیشن وزیراعلی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اپوزیشن پنجاب اسمبلی مریم نواز معطلی نوٹیفیکیشن وزیراعلی پنجاب اسمبلی اپوزیشن کے مریم نواز کے لیے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔