خانیوال(نیوز ڈیسک) قوتِ گویائی سے محروم لڑکی پر کمرے میں بند کرکے ت ش دد کیا گیا، جسے سیف سٹی کے تربیت یافتہ عملے نے اشارہ سمجھ کر بچا لیا۔

خانیوال میں سیف سٹی اتھارٹی کی جانب سے سائن لینگویج کی تربیت کا عملی فائدہ سامنے آ گیا، جب قوتِ گویائی سے محروم ایک لڑکی نے گھریلو تش دد کا نشانہ بننے کے بعد ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن سے ویڈیو کال کے ذریعے رابطہ کیا۔

لڑکی نے اشاروں کی زبان میں بتایا کہ اسے گھر والوں نے کمرے میں بند کر کے مارا پیٹا ہے اور وہ مدد کی منتظر ہے۔

سیف سٹی کے تربیت یافتہ افسران نے لڑکی کے اشاروں سے صورت حال کو فوری طور پر سمجھا اور موقع پر پولیس کو روانہ کر دیا۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے لڑکی کو بحفاظت بازیاب کروایا اور والدین سے صلح کروا دی۔

ترجمان سیف سٹی کے مطابق ادارے میں خصوصی افراد کی شکایات سننے اور سمجھنے کے لیے سائن لینگویج میں مہارت رکھنے والا عملہ تعینات ہے، جو فوری ردِ عمل دے کر مدد فراہم کرتا ہے۔ خصوصی افراد اب سیف سٹی ویمن سیفٹی ایپ، ویڈیو کال اور ویب سائٹ کے ذریعے براہِ راست اپنی شکایات درج کرا سکتے ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ سائن لینگویج تربیت کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ معاشرے کے کمزور طبقات، خصوصاً قوتِ گویائی سے محروم افراد کو بھی فوری اور مؤثر پولیس رسپانس مہیا کیا جا سکے تاکہ وہ کسی بھی ناانصافی کے خلاف خاموش نہ رہیں۔

Post Views: 12.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سیف سٹی

پڑھیں:

امتحان میں کامیابی کے باوجود عبدالمجید نوکری سے محروم، عمر کی حد رکاوٹ بن گئی

بھارتی ریاست کیرالہ(Kerala) سے ایک غیر معمولی اور حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک شخص کو سرکاری نوکری کا تقرری نامہ امتحان دینے کے 21 سال بعد جاری کیا گیا، تاہم اس وقت تک وہ عمر کی قانونی حد عبور کر چکا تھا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق عبدالمجید نے 2005 میں جونیئر عربی ٹیچر کی آسامی کے لیے امتحان دیا تھا۔ وہ اس امتحان میں کامیاب امیدواروں کی فہرست میں بھی شامل تھے، تاہم اس وقت انہیں تقرری نہیں مل سکی۔ سرکاری فہرست کی مدت تین سال تھی جو 2008 میں ختم ہو گئی، مگر اس دوران خالی آسامی کو پر نہیں کیا جا سکا۔

طویل عرصے تک معاملہ التوا میں رہنے کے بعد 24 اپریل 2026 کو اچانک عبدالمجید کو تقرری نامہ جاری کر دیا گیا۔ لیکن چونکہ اس وقت تک ان کی عمر 60 سال ہو چکی تھی، اس لیے وہ سرکاری ملازمت کے لیے قانونی طور پر اہل نہیں رہے اور ملازمت سنبھال نہیں سکے۔

یہ صورتحال نہ صرف ایک فرد کے لیے مایوسی کا باعث بنی بلکہ سرکاری نظام کی سست روی اور انتظامی تاخیر پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عبدالمجید کا کہنا ہے کہ اگر انہیں بروقت تقرری مل جاتی تو وہ برسوں پہلے اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہوتے اور ان کا کیریئر مختلف ہوتا۔

مزیدپڑھیں:فیفا ورلڈکپ 2026 کا آغاز 12 جون سے

مزید دلچسپ اور متنازع پہلو اس وقت سامنے آیا جب ان کے تعلیمی ریکارڈ میں تاریخ پیدائش 27 مئی 1966 درج ہے، جبکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی اصل تاریخ پیدائش 27 مئی 1967 ہے۔ ان کے مطابق اگر سرکاری ریکارڈ میں ایک سال کی درستگی کر دی جائے تو وہ اب بھی ملازمت کے اہل ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے اس حوالے سے ریاستی وزیر تعلیم اور قانونی ماہرین کو باضابطہ درخواستیں بھی جمع کروائی ہیں، جن میں انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث ہے، جہاں صارفین کی بڑی تعداد نے سرکاری نظام میں طویل تاخیر اور انتظامی ناکامی پر تنقید کی ہے، جبکہ کچھ لوگوں نے متاثرہ شخص سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ہولناک سانحہ، ایک شخص نے خاندان کے 6 افراد کو قتل کرکے خود کو گولی مار دی
  • امتحان میں کامیابی کے باوجود عبدالمجید نوکری سے محروم، عمر کی حد رکاوٹ بن گئی
  • مردان: 3 افراد کو قتل کرنیوالے ملزمان انکے 2 بچے چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار
  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں