کراچی، پولیس کانسٹیبل کے قتل کا معمہ حل، دو ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد میں پولیس کانسٹیبل حاجی ولد جمن کے لرزہ خیز قتل کا معمہ حل کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے واقعے میں ملوث دو ملزمان کو اسلحے سمیت گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق مقتول کانسٹیبل حاجی تھانہ سرسید کی حدود میں رہائش پذیر تھا، اور 26 جون کو اس کی جلی ہوئی لاش نارتھ کراچی کے علاقے سے ملی تھی۔
ابتدائی طور پر شبہ ظاہر کیا گیا تھا کہ پولیس اہلکار آگ لگنے سے جاں بحق ہوا، تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ نے انکشاف کیا کہ مقتول کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا۔
واقعے کی تفتیش کے لیے پولیس کو تین دن کا وقت دیا گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے نارتھ کراچی فور جے ایریا میں کارروائی کرتے ہوئے دو ملزمان جلال اور یعقوب کو گرفتار کر لیا۔
گرفتار ملزمان کے قبضے سے مقتول پولیس اہلکار کا سرکاری ہتھیار بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان کا تعلق مہمند ایجنسی اور سوات سے ہے، اور وہ نشے کے عادی ہیں۔
تفتیش کے دوران ملزمان نے اعتراف کیا کہ انہوں نے ذاتی رنجش کی بنا پر کانسٹیبل حاجی کو فائرنگ کرکے قتل کیا، اور بعد ازاں لاش کو جلانے کی غرض سے رات گئے دوبارہ جائے واردات پر پہنچے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کر لیا
پڑھیں:
اغوا برائے تاوان کیس: پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا، ضمانت واپس لینے کی درخواست
اغوا برائے تاوان کیس میں پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا ہے اور ان کے وکیل نے عدالت سے ضمانت واپس لینے کی درخواست کی ہے۔
کراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی منتظم عدالت میں اداکار منیب بٹ کے خلاف اغوا برائے تاوان کے مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں ان کے وکیل نے ضمانت واپس لینے کی درخواست دائر کر دی۔
سماعت کے دوران وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے اپنے چالان میں منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا ہے، لہٰذا ضمانت کی درخواست واپس لینے کی اجازت دی جائے۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے مدعی محمد متعال کو اغوا کر کے 24 لاکھ 94 ہزار روپے مالیت کی کرپٹو کرنسی اور دیگر سامان لوٹ لیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ منیب بٹ پر ملزمان کو مری میں رہائش دلوانے کا الزام تھا، تاہم تفتیش مکمل ہونے کے بعد انہیں چالان میں بے گناہ قرار دیا گیا۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں ایک پولیس اہلکار غالب تاحال مفرور ہے، جبکہ دیگر ملزمان میں شاہد ستار، محمد سلیم، علیم اور وزیر محمد شامل ہیں۔
تحقیقات کے مطابق ملزمان نے 23 اپریل کو شاہراہِ فیصل سے محمد متعال کو اغوا کیا اور کرپٹو کرنسی سمیت دیگر قیمتی سامان چھیننے کے بعد انہیں کورنگی انڈسٹریل ایریا میں چھوڑ دیا تھا۔