Express News:
2026-07-24@05:11:48 GMT

عدم برداشت اور دلیل کا فقدان

اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT

ہم ایک ایسا سماج بن چکے ہیں جو لفظوں سے خائف ہے، سوالوں سے چڑتا ہے، تحقیق کو گمراہی سمجھتا ہے اور تنقید کو توہین کا دوسرا نام قرار دیتا ہے۔ یہ وہ المیہ ہے جو برسوں کی تربیت، ریاستی بیانیے اور سوچ پر تالے لگانے والے نصاب کا نتیجہ ہے۔ ہم نے سوچنے کی آزادی کو جرم ، اختلافِ رائے کو گستاخی اور دلیل کو بے ادبی سمجھ لیا ہے۔

یہی وہ راستہ ہے جو کسی بھی قوم کو اجتماعی زوال کے گڑھے میں دھکیلتا ہے۔جب ہم ماضی کی طرف نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں سقراط، ارسطو اور ابن رشد جیسے افراد دکھائی دیتے ہیں جو فکر و دلیل کے علمبردار تھے۔ ان کی تحریریں سوال سے شروع ہوتی تھیں اور تحقیق پر ختم۔ ان کے ہاں کوئی بات محض جذبات کی بنیاد پر قابلِ قبول نہ تھی۔ دلیل تھی، تجزیہ تھا اور سب سے بڑھ کر وہ رواداری تھی جو دوسرے نقطہ نظر کو سننے اور سمجھنے کی گنجائش پیدا کرتی تھی۔

مگر آج ؟ … آج جب کوئی نوجوان سوال کرتا ہے تو اسے بدتمیز قرار دیا جاتا ہے۔ جب کوئی استاد تنقید کرتا ہے تو اسے ملک دشمن کہہ کر خاموش کروا دیا جاتا ہے۔ جب کوئی دانشور تحقیق کے ذریعے سچ تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر فتوے لگائے جاتے ہیں۔ ہمیں انفرادیت سے خوف آتا ہے کیونکہ ہم نے ایک ایسا سماج تشکیل دیا ہے جہاں اجتماعی سوچ بھی وہی ہے جو طاقتور حلقے طے کرتے ہیں۔

برداشت ایک ایسا عمل ہے جو دل کی وسعت اور ذہن کی روشنی کا متقاضی ہوتا ہے، لیکن جب ذہن تاریکی میں ہو اور دل بغض و تعصب سے لبریز، تو برداشت کہاں سے آئے؟ پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں برداشت صرف اپنی رائے کے حق میں مانگی جاتی ہے لیکن مخالف نقطہ نظر کے لیے دروازے بند کردیے جاتے ہیں۔ ایسے میں تنقید برداشت نہیں کی جاتی ہے، تحقیق غداری اور دلیل بغاوت سمجھی جاتی ہے۔

یہ بحران صرف علمی حلقوں تک محدود نہیں۔ ہمیں اپنے گھروں میں بھی وہی تربیت دی جاتی ہے جہاں سوال کرنا بے ادبی ہے، بڑوں کی باتوں پر تجزیہ کرنا بدتمیزی ہے۔ بچہ اگر پوچھ لے کہ یہ کیوں؟ تو اسے فوراً چپ کرا دیا جاتا ہے۔ ہم نے نسل در نسل یہ سبق سکھایا ہے کہ اطاعت ہی نجات ہے، جب کہ ترقی یافتہ اقوام نے سیکھا کہ سوال ہی نجات ہے۔

ہمارے تعلیمی ادارے جو کبھی فکر و دانش کے گہوارے ہوا کرتے تھے، آج رٹنے اور نمبر لینے کی مشین بن چکے ہیں۔ جامعات میں تحقیق کے نام پر جو کام ہو رہا ہے، وہ بیشتر اوقات محض خانہ پُری ہوتی ہے اور تنقیدی شعور وہ تو نصاب میں داخل ہی نہیں ہونے دیا گیا۔ طالب علم کو یہ نہیں سکھایا جاتا کہ دلیل کیسے دی جاتی ہے، اختلاف کیسے کیا جاتا ہے اور رواداری کیسے برتی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج ہماری جامعات ایسے نوجوان پیدا کر رہی ہیں جو معلومات تو رکھتے ہیں مگر فہم اور بصیرت سے محروم ہیں۔

ذرا، ٹی وی اسکرینز کا جائزہ لیجیے وہاں جو گفتگو ہو رہی ہے وہ دلیل نہیں دھمکی ہے۔ وہاں سوال نہیں، الزام ہے وہاں تجزیہ نہیں، تمسخر ہے۔ سیاسی اختلافات اب علمی سطح پر نہیں بلکہ شخصی سطح پرکیے جاتے ہیں۔ کوئی کسی کی بات سے متفق نہ ہو، تو اسے فوراً غدار، ایجنٹ یا لفافہ کہہ دیا جاتا ہے، ایسے میں مکالمہ کیسے زندہ رہ سکتا ہے؟ اور جب مکالمہ ترک کردیا جائے تو سماج میں فکر اور شعور دم توڑ دیتے ہیں۔

 ہماری سڑکوں پرگلیوں میں سوشل میڈیا پر ہر طرف ایک ہی آواز سنائی دیتی ہے بس چپ رہو۔ گویا اختلاف کی ہر صورت کو دبانا ہی حب الوطنی ہے جب کہ سچ تو یہ ہے کہ سب سے بڑی حب الوطنی یہی ہے کہ ہم سچ بولیں، سوال کریں اور دلیل کے ساتھ اپنی بات رکھیں۔

جب تحقیق ختم ہو جائے تو علم محض معلومات کا ذریعہ بن جاتا ہے، جب تنقید ختم ہو جائے تو سوچ جمود کا شکار ہو جاتی ہے، جب دلیل کا گلا گھونٹ دیا جائے تو سماج جہالت کے گھپ اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے اور جب برداشت ختم ہو جائے تو پھر صرف انتہا باقی رہ جاتی ہے، مذہبی ہو یا سیاسی نسلی ہو یا لسانی۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک ایسے سماج کی تشکیل ہو سکے جہاں فکر کی آزادی ہو اختلاف کی گنجائش ہو اور دلیل کو اہمیت دی جائے۔ ہمیں اپنے بچوں کو سکھانا ہوگا کہ سوال کرنا، ان کا حق ہے کہ تنقید ذاتی حملہ نہیں بلکہ بہتری کی صورت ہوتی ہے کہ تحقیق صرف نصاب کا حصہ نہیں بلکہ زندگی کا رویہ ہے اور برداشت صرف ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ بقاء کا واحد راستہ ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ قومیں نعرے بازی سے نہیں مکالمے سے بنتی ہیں، ترقی محض انفرا اسٹرکچر سے نہیں فکری بنیادوں سے جنم لیتی ہے۔ جب تک ہم اپنی فکری بنیادوں کو مضبوط نہیں کریں گے جب تک ہم اختلاف کو قبول کرنا نہیں سیکھیں گے جب تک دلیل اور تحقیق کو اپنا شعار نہیں بنائیں گے، ہم زوال کی اس دلدل سے نہیں نکل سکیں گے۔

آئیے! اپنے اندر ایک بار پھر سوال اٹھائیں شاید یہی سوال ہمیں سچ کی طرف لے جائے اور سچ جیسا کہ ہمیشہ ہوتا ہے ہماری نجات کا واحد راستہ ہے۔مجھے اکثر جان لینن کا گانا یاد آتا ہے am a dreamer I میں بھی خواب دیکھنے والوں میں سے ہوں۔ یہ خواب کہ ایک دن دنیا میں عقل و دانش کی قدر ہوگی۔ انسان تحمل اور برداشت سے کام لیں گے۔ فہم و فراست کو اہمیت دی جائے گی۔

ہاں! میں خواب دیکھتی ہوں خواب کہ انسان ایک بہتر سماج میں جی رہا ہو۔ خواب کہ ہر مظلوم کو اس کا مقام ملے اور سب سے بڑھ کر خواب کہ سوال کیا جاسکے اور اختلاف رائے کو بڑا دل کر کے سنا جاسکے شاید میں یہ اپنی زندگی میں نہ دیکھ سکوں مگر پھر بھی میں خواب دیکھتی ہوں، کیونکہ خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: دیا جاتا ہے نہیں بلکہ اور دلیل جائے تو جاتی ہے خواب کہ تو اسے ہے اور

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ