وکیل خواجہ شمس الاسلام قتل کیس، سندھ پولیس نے کے پی حکومت سے مدد مانگ لی
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
خط کے مطابق انسپکٹر عامر وِرک کی سربراہی میں 3 رکنی پولیس ٹیم خیبرپختونخوا روانہ ہوگی، پولیس ٹیم میں اے ایس آئی عبدالقادر اور ایک خاتون سرچر بھی شامل ہے، ملزمان کو گرفتار کرکے مقامی عدالت سے راہداری ریمانڈ لے کر کراچی منتقل کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کراچی میں معروف قانون دان خواجہ شمس الاسلام کے قتل کیس میں 11 ملزمان کی گرفتاری کے لیے سندھ پولیس نے خیبرپختونخوا حکومت سے مدد مانگ لی ہے۔ حکومت سندھ کے محکمہ داخلہ نے خیبرپختونخوا حکومت کو خط ارسال کیا ہے جس کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس کی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ خط میں خیبر پختونخوا حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ضلع جنوبی کے تھانہ درخشاں میں درج ایک ہائی پروفائل قتل اور دہشت گردی کے کیس میں مطلوب 11 ملزمان کی گرفتاری اور منتقلی میں تعاون فراہم کیا جائے۔ سندھ حکومت نے خط میں کہا ہے کہ ملزمان خیبرپختونخوا میں مقیم یا روپوش ہیں، مطلوب ملزمان میں عمران آفریدی ولد نبی گل آفریدی، ضرار آفریدی ولد نبی گل آفریدی، عنان خان ولد نبی گل، عثمان آفریدی ولد شیرین آفریدی، تقدیر ولد اعظم گل، بہار گل ولد اعظم گل، خستہ گل ولد اعظم گل، شہریار ولد بہار گل، اسلام نواز ولد بہار گل، محمد حسن ولد شریف اللہ اور محمد داود ولد زیمت گل شامل ہیں۔
خط میں سندھ حکومت نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو کراچی منتقل کرنے میں مکمل تعاون کیا جائے۔ خط کے مطابق انسپکٹر عامر وِرک کی سربراہی میں 3 رکنی پولیس ٹیم خیبرپختونخوا روانہ ہوگی، پولیس ٹیم میں اے ایس آئی عبدالقادر اور ایک خاتون سرچر بھی شامل ہے، ملزمان کو گرفتار کرکے مقامی عدالت سے راہداری ریمانڈ لے کر کراچی منتقل کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 6 میں سینئر وکیل خواجہ شمس الاسلام کو گھات لگائے ملزم نے اس وقت فائرنگ کا نشانہ بنایا تھا، جب وہ نماز پڑھ کر مسجد سے باہر آرہے تھے، واقعے میں ان کے بیٹے سمیت 2 افراد زخمی بھی ہوئے۔ پولیس حکام کے مطابق فائرنگ کرنے والے ملزم کی شناخت مقتول کے سابق سیکیورٹی گارڈ کے بیٹے عمران آفریدی کی نام سے ہوئی۔ ڈی آئی جی ساؤتھ سید اسد رضا کے مطابق ملزم نے چند ماہ قبل بھی سینئر وکیل پر حملہ کیا تھا، عمران آفریدی کا الزام تھا کہ اس کے والد کو خواجہ شمس الاسلام نے قتل کرایا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خواجہ شمس الاسلام پولیس ٹیم کیا جائے کے مطابق
پڑھیں:
اداکار منیب بٹ اغوا برائے تاوان کیس کا ڈراپ سین
کراچی، اغوا برائے تاوان کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیس نے اداکار منیب بٹ کو تفتیش کے بعد بے گناہ قرار دیتے ہوئے چالان میں ان کے خلاف الزامات برقرار نہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے بعد منیب بٹ کے وکیل نے عدالت سے ضمانت کی درخواست واپس لینے کی استدعا کر دی۔
کراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی منتظم عدالت میں مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں منیب بٹ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد چالان میں ان کے مؤکل کو بے گناہ قرار دیا ہے، لہٰذا اب ضمانت کی درخواست برقرار رکھنے کی ضرورت نہیں، اس لیے اسے واپس لینے کی اجازت دی جائے۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نےمحمد متعال نامی شہری کو اغوا کر کے ان سے24 لاکھ 94 ہزار روپے مالیت کی کرپٹو کرنسی اور دیگر قیمتی سامان چھین لیا تھا۔
تحقیقات کے دوران منیب بٹ پر یہ الزام سامنے آیا تھا کہ انہوں نے مرکزی ملزمان کو مری میں رہائش فراہم کرنے میں معاونت کی، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ تفصیلی تفتیش اور دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کے بعد ان کے خلاف کوئی قابلِ اعتماد ثبوت سامنے نہیں آیا، جس کے باعث انہیں چالان میں بے گناہ قرار دیا گیا۔
پولیس نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مقدمے میں نامزد ایک پولیس اہلکارغالب تاحال مفرور ہے، جبکہ دیگر ملزمان میں شاہد ستار، محمد سلیم، علیم اور وزیر محمد شامل ہیں، جن کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔
تحقیقات کے مطابق ملزمان نے23 اپریل کو شاہراہِ فیصل سے محمد متعال کو مبینہ طور پر اغوا کیا، ان سے کرپٹو کرنسی اور دیگر قیمتی سامان حاصل کیا اور بعد ازاں انہیںکورنگی انڈسٹریل ایریا میں چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔
عدالت نے وکیل کی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے مقدمے کی آئندہ سماعت متعلقہ قانونی کارروائی کے لیے ملتوی کر دی۔