بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کی 8 اپیلوں پر پنجاب حکومت کو نوٹس جاری
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کی 8 اپیلوں پر پنجاب حکومت کو نوٹس جاری کردیا۔
سپریم کورٹ نے پراسیکیوشن ڈپارٹمنٹ کو قانونی سوالات پر تیاری کا حکم دیا ہے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا ہے کہ ضمانت کی درخواست میں فائنڈنگ دی گئی ہیں، ضمانت کے فیصلے میں فائنڈنگ ٹھیک ہے یا نہیں، اس کو فی الحال ٹچ نہیں کرنا، فی الحال ابھی ہم قانونی معاملات میں نہیں جائیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ ابھی قانونی فائنڈنگ کو ٹچ کیا تو کسی ایک کے لیے کیس متاثر ہوسکتا ہے، آج فریقین کو نوٹسز جاری کر رہے ہیں۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میں کچھ بولنا چاہتا ہوں۔
سپریم کورٹ میں9 مئی کے مقدمات میں بانی پی ٹی آئی کی ضمانت بعد از گرفتاری کی8 اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کر دی گئیں۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے وکیل سلمان صفدر کو روسٹرم پر بولنے کی اجازت نہیں دی۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ کیا ضمانت کیس میں حتمی آبزرویشنز دی جاسکتی ہیں؟ دونوں سائیڈ کے وکلاء قانونی سوالات پر معاونت کریں، وکلاء آئندہ سماعت تک لیگل ایشوز پر تیاری کرلیں۔
چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت 19 اگست تک ملتوی کردی۔ اس بینچ میں میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس شفیع صدیقی بھی شامل تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی کی ضمانت ضمانت کی چیف جسٹس
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔