دنیا میں 5 جنگیں رکوائیں، نوبل امن انعام کا میں بہترین امیدوار ہوں، صدر ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
DES MOINES, IOWA:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک کے 250 ویں یومِ آزادی کے موقع پر آئیووا اسٹیٹ فیئر گراؤنڈز میں ایک بھرپور عوامی اجتماع سے خطاب کیا، جس میں انہوں نے داخلی اور خارجی پالیسیوں پر اہم اعلانات کیے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پانچ بین الاقوامی جنگیں رکوا کر دنیا میں امن قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، اور اسی بنیاد پر انہوں نے کہا کہ میں نوبل امن انعام کے لیے بہترین امیدوار ہوں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ ایٹمی تصادم کو میں نے رکوایا ہے، کانگو اور روانڈا کے درمیان خانہ جنگی ختم کرائی جبکہ کوسووو اور سربیا کے مابین جاری کشیدگی کو بھی رکوایا۔
خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے امریکی کسانوں کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کسانوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں جو اپنے فارموں پر موسمی مائیگرنٹ مزدوروں پر انحصار کرتے ہیں۔
انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر کسان ان مزدوروں کی ضمانت دیں، تو انہیں ملک میں رہنے دیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی حکومت نے امریکی تاریخ کا سب سے بڑا ڈیپورٹیشن پلان شروع کیا ہے، جس کے تحت لاکھوں غیر قانونی تارکینِ وطن کو تلاش کر کے ملک بدر کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر میں لاس اینجلس میں نیشنل گارڈز نہ بھیجتا، تو وہاں سب کچھ راکھ کا ڈھیر بن جاتا۔
انہوں نے سابق حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بائیڈن دور میں لاکھوں افراد غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہوئے، لیکن ان کی انتظامیہ اب اس رحجان کو روکنے کے لیے متحرک ہے۔
صدر ٹرمپ نے عالمی سطح پر اپنی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پانچ عالمی تنازعات کو میں نے روکا اور ہم نے دنیا کو تباہی سے بچایا ہے، اور دنیا کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم امن کے علمبردار ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنی حکومت کے جاری معاشی منصوبے بگ بیوٹی فل ایکٹ کو ملک کی ترقی کا ضامن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے ذریعے تنخواہوں میں اضافہ ہو رہا ہے، مہنگائی میں واضح کمی آ رہی ہے اور غیر قانونی تارکین وطن کی آمد روکی جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں امریکی فوج کی طاقت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا، ہمارے پاس دنیا کی بہترین فوج، جدید ترین طیارے اور وہ اسلحہ ہے جس کا دنیا میں کوئی مقابلہ نہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ مزید چار سال کے لیے امریکہ کی صدارت جاری رکھنا چاہتے ہیں، کیونکہ ہم نے ملک کو درست سمت پر ڈالا ہے، اور ہم اسے وہ عظمت لوٹائیں گے جس کا یہ مستحق ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔