لاء اینڈ آرڈر کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور بڑھتے ہوئے جرائم کیوجہ سے دہلی جرائم کا مرکز بن گیا، دیویندر یادو
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ امت شاہ، ریاستی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا اور پولیس کمشنر سمیت اعلیٰ افسران نے دہلی کی سیکورٹی کو چاق و چوبند بنانے کیلئے 2 بار میٹنگ کی لیکن لوٹ، ڈکیتی، قتل اور خواتین کیساتھ ہو رہے جرائم میں اب تک کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ دہلی میں لاء اینڈ آرڈر کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور جرائم کے واقعات میں روز بروز ہو رہے اضافے پر کانگریس کمیٹی کے ریاستی صدر دیویندر یادو نے حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں روزانہ بڑھتے جرائم کے معاملوں سے بے پرواہ وزیراعلیٰ ریکھا گپتا اپنی 100 دنوں کی ناکامی کو بھلا چکی ہیں۔ لاء اینڈ آرڈر کو بہتر بنانے کے بجائے اپنے محل کی تزئین میں مصروف ہیں جبکہ ان کی ناک کے نیچے لاجپت نگر میں 42 سالہ ایک خاتون اور ان کے 14 سالہ بیٹے کا قتل کر دیا گیا، جس پر دہلی حکوت خاموشی اختیار کئے ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لاء اینڈ آرڈر کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور جرائم کے اضافے کی وجہ سے دہلی جرائم کی دارالحکومت بن چکی ہے۔ دیویندر یادو نے کہا کہ دہلی میں آئے دن آبروریزی اور خواتین کو ہراساں کرنے کے معاملات بڑھتے جا رہے ہیں۔
کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، ریاستی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا اور پولیس کمشنر سمیت اعلیٰ افسران نے دہلی کی سیکورٹی کو چاق و چوبند بنانے کے لئے 2 بار میٹنگ کی لیکن لوٹ، ڈکیتی، قتل اور خواتین کے ساتھ ہو رہے جرائم میں اب تک کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا بھارتی وزیر داخلہ اور وزیراعلیٰ کی میٹنگیں صرف عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اب جبکہ مرکز اور دہلی میں بی جے پی کی حکومت ہے تب حفاظتی انتظامات کو درست کر کے پولیس کی نگرانی بڑھانے میں کوئی پہل کیوں نہیں کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو بیان بازی اور رسمی کارروائیوں کے بجائے عملی کارروائی کرتے ہوئے دہلی کے لاء اینڈ آرڈر کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ لاء اینڈ آرڈر دہلی میں
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔