تنخواہ بند نہیں ہوگی… لیورپول نے حادثے میں ہلاک فٹبالر کے اہلخانہ کا ہاتھ تھام لیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
لیورپول فٹبال کلب نے پرتگالی اسٹار فارورڈ ڈییوگو جوٹا کی کار حادثے میں ہلاکت کے بعد انکے اہلخانہ کی مالی معاونت کا اعلان کردیا۔
ڈییوگو جوٹا اسپین کے علاقے زامورا میں اپنے چھوٹے بھائی آندرے سلوا کے ہمراہ حادثے کا شکار ہوئے تھے جس میں دونوں بھائیوں کی موقع پر ہی موت ہوگئی تھی۔
رپورٹس کے مطابق جوٹا حال ہی میں پھیپھڑوں کی سرجری سے گزرے تھے اور ڈاکٹروں نے انہیں پرواز سے گریز کرنے کی ہدایت کی تھی جس کے باعث وہ انگلینڈ واپس نہ جا سکے۔
ڈییوگو جوتا نے 2020 میں وولورہیمپٹن وانڈرز سے لیورپول میں شمولیت اختیار کی اور پانچ سالہ کیریئر میں 182 میچز میں شرکت کی۔
وہ لیورپول کی 2024-25 پریمیئر لیگ جیتنے والی ٹیم کا بھی اہم حصہ رہے۔ ان کی شاندار کارکردگی نے انہیں مداحوں میں بے حد مقبول بنا دیا تھا۔
ڈییوگو جوتا کی ناگہانی موت کے بعد لیورپول ایف سی نے ان کے اہلِ خانہ کو مکمل مالی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کلب کے مطابق جوٹا کا معاہدہ 2027 تک تھا اور ان کی ہفتہ وار تنخواہ 1 لاکھ 40 ہزار پاؤنڈ (تقریباً 5 کروڑ 16 لاکھ پاکستانی روپے) تھی۔
اس حساب سے کلب کی جانب سے ان کے خاندان کو جو مجموعی رقم دی جا رہی ہے، وہ 1 کروڑ 45 لاکھ 60 ہزار پاؤنڈ بنتی ہے، یعنی پاکستانی کرنسی میں یہ رقم 5 ارب 37 کروڑ روپے سے زائد ہے۔
لیورپول کلب نے جوٹا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی شرٹ نمبر 20 کو ہمیشہ کے لیے ریٹائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کلب کے ایگزیکٹو مائیکل ایڈورڈز اور رچرڈ ہیوز نے مشترکہ بیان میں کہا کہ ڈییوگو جوٹا صرف ایک عظیم فٹبالر نہیں بلکہ ایک باکمال انسان تھے، جن کا خلا کبھی پورا نہیں ہو سکے گا۔ وہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔