خلاء میں موجود کھربوں ڈالر کا خزانہ، حیران کن انکشاف سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
امریکی خلائی ادارہ ناسا ایک ایسی خلائی چٹان تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے جس کی قیمت کا اندازہ 10 کروڑ کھرب ڈالر (یعنی ایک کواڈریلن ڈالر) لگایا گیا ہے۔ اس چٹان کا نام 16 سائیکی ہے اور سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اس میں بڑی مقدار میں سونا، پلیٹینیم، نکل اور کوبالٹ جیسے قیمتی دھاتیں موجود ہیں۔
ناسا نے 2023 میں اس مشن کا اعلان کیا اور اکتوبر 2023 میں ایک خلائی جہاز امریکہ کے شہر فلوریڈا سے خلا کی طرف بھیج دیا گیا۔ یہ خلائی جہاز بہت تیز رفتاری سے سفر کر رہا ہے اور امید ہے کہ اگست 2029 میں 16 سائیکی تک پہنچ جائے گا۔
ناسا کا مقصد صرف خزانے تک پہنچنا نہیں، بلکہ یہ بھی جاننا ہے کہ زمین جیسے سیارے کیسے بنتے ہیں اور ان کی اندرونی پرتیں کس طرح کام کرتی ہیں۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اگر یہ خزانہ زمین پر لایا جائے، تو دنیا کا ہر انسان ارب پتی بن سکتا ہے۔ کیوں کہ اس سیارچے کی قیمت پوری دنیا کی کل دولت سے بھی کئی گنا زیادہ ہے۔
لیکن کئی ماہرین اس سے متفق نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اتنا سونا یا قیمتی دھاتیں ایک ساتھ مارکیٹ میں آ گئیں، تو ان کی قیمت گر جائے گی۔
جیسے ایک ماہر نے کہا، ”اگر سونے کی مقدار بہت زیادہ ہو جائے، تو اس کی قیمت بہت کم ہو جائے گی۔ پھر سونا بھی عام چیز بن جائے گا، جیسے لوہا یا پتھر۔“
ایک اور ماہر نے کہا، ”یہ خزانہ کسی کو امیر نہیں کرے گا، بلکہ جو لوگ آج ارب پتی ہیں، ہو سکتا ہے وہ سب کچھ کھو دیں۔“
یہ خلائی مشن بہت دلچسپ ہے، لیکن اس کے اثرات صرف سائنسی نہیں بلکہ معاشی بھی ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ خزانہ زمین پر آ گیا تو دنیا کی معیشت، مارکیٹ اور دولت کا نظام مکمل طور پر بدل سکتا ہے۔
یہ فیصلہ آنے والے سالوں میں ہوگا کہ یہ مشن انسانیت کے لیے خوش قسمتی لائے گا یا نئی مشکلیں پیدا کرے گا۔ فی الحال، ناسا پوری محنت سے 16 سائیکی تک پہنچنے کی تیاری کر رہا ہے۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کی قیمت
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔