ڈائریکٹر اکاؤنٹ ، آڈٹ اور فنانس کے افسران کی مجرمانہ غفلت ، ادائیگی رکوانے میں پراسرار چشم پوشی
بینک سے ہونے والی آمدن پر انکم ٹیکس ادائیگی کے باوجود متعلقہ ذمہ داران کی نااہلی کا رویہ بدستور برقرار

سیسی کے نان فائلر ہونے کے باعث 15کے بجائے پینلٹی کے ساتھ35فیصد ٹیکس ادائیگی، ادارے کو کروڑوں روپے کا نقصان، آفس ٹائم ختم ہونے کے بعد ایف بی آر کو67کروڑ روپے بذریعہ چیک جاری۔ رپورٹ کے مطابق محکمہ محنت کے ذیلی ادارے سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن سیسی میں کروڑوں روپے ایک اور بڑا اسکینڈل سامنے آ گیا، سابق کمشنر سیسی نے اپنی پوسٹنگ کے آخری دن ایف بی آر کو گورننگ باڈی سیسی یا چیئرمین گورننگ باڈی کی منظوری کے بغیر 67 کروڑ دس لاکھ روپے کی ادائیگی بذریعہ چیک کردی، چیک کو ہفتہ کے روز سندھ بینک کی مرکزی برانچ سے کلیئر کروا لیا گیا۔حیرت کی بات ہے کہ سیسی کے گریڈ 19 کے ڈائریکٹر اکانٹ، آڈٹ اور فنانس نے 67 کروڑ روپے کی پینلٹی پیمنٹ کو رکوانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ ذرائع کے مطابق ایک ماہ قبل ایف بی آر نے سیسی کو نوٹس جاری کئے تو بروقت اس ایشو کو ایف بی آر کے متعلقہ افسران کے ساتھ بیٹھ کر حل نہیں کیا گیا، ایف بی آر افسران کو آگاہ نہیں کیا گیا کہ ہم بینک میں فکس ڈیپازٹ سے حاصل ہونے والے تمام پرافٹ پر باقاعدگی سے انکم ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سیسی میں کسی بھی مرحلہ پر ماضی کی طرح کمشنر انکم ٹیکس یا پھر کسی وکیل کی خدمات حاصل نہیں کئی گئیں۔جبکہ سیسی انتظامیہ کی نااہلی کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے انکم ٹیکس کی ریٹرن بروقت جمع نہ کروانے کی وجہ سے مسلسل کروڑوں روپے زیادہ ادا کر رہے ہیں اپنی اس غلطی کوتاہی و بدانتظامی کی وجہ سے ہی ایف ابی آر کو جہاں 15 فیصد انکم ٹیکس دینا چاہیے وہ نان فائلر کٹیگری میں ہونے کی وجہ سے مسلسل 30 فیصد انکم ٹیکس کی ادائیگی کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق 35 فیصد پینلٹی کے ساتھ ادائیگی کر کے سرکاری خزانہ کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔سیسی کی 55 سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ ایف بی آر کو سیسی کی جانب سے اتنی بڑی ادائیگی کی گئی ہو، ادائیگی کے بعد چیئرمین گورننگ باڈی اور صوبائی وزیر محنت شاہد عبدالسلام تھیم سے باقاعدہ تحریری اجازت لینے کی کوشش کی جا رہی ہے تا کہ اس ادائیگی کو قانونی شکل دی جا سکے۔ اگر سیسی کے سابق کمشنر، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن اور ڈائریکٹر فنانس کوشش کرتے تو محنت کشوں کے کنٹری بیوشن سے 67 کڑوڑ روپے کی اس ادائیگی کو روکنے یا کم کروانے کی کوشش کرسکتے ہیں، جبکہ اس طرح کے نوٹس مختلف سرکاری محکموں کو موصول ہوئے ہیں اور انھوں ایف بی آر سے مذاکرات کر کے کچھ ادائیگی کی، بقایا ادائیگی کے لیے انکم ٹیکس انتظامیہ سے وقت حاصل کیا ہے۔ سیسی افسران نے وزیر اعلی سندھ، صوبائی وزیر محنت و سیکرٹری محنت کو اس معاملہ کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: انکم ٹیکس ایف بی آر کے مطابق بی آر کو

پڑھیں:

گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی

گھوٹکی میں ڈہرکی سے سابق رکن صوبائی اسمبلی شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا گیا۔ 

ایس ایس پی گھوٹکی انور کھیتران کا کہنا ہے کہ جہانگیر شر کو نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے اغوا کیا تھا۔ واقعے کی اطلاع پر پولیس اور قبیلے لوگوں نے اغوا کاروں کا تعاقب کیا۔

انہوں نے بتایا کہ بچے کو پولیس نے مقابلے کے بعد بازیاب کروا لیا تاہم اس دوران ملزمان فرار ہوگئے۔ 

ایس ایس پی گھوٹی کا کہنا تھا کہ اغواکاروں کی نشاندہی ہوگئی ہے، ملزمان کا تعلق بھی شر قبیلے سے ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے تعاقب جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف