ٹائپ 1 ذیابیطس میں مبتلا افراد کے ہائپوگلیسیمیا یا بلڈ شوگر کے کم ہوجانے کا خطرہ ہمیشہ رہتا ہے۔ اس کیفیت کی وجہ سے مریضوں کی جان جانے کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں جس کا علاج گلوکاگن نامی ہارمونز کو انجیکشن کے ذریعے جسم میں پہنچا کر کیا جا تا ہے۔
ایسے کیسز جن میں مریضوں کو یہ احساس نہیں ہو پاتا کہ ان کی بلڈ شوگر خطرناک حد تک کم ہوگئی ہے کے ایمرجنسی بیک اپ کے لیے ایم آئی ٹی انجینئرز نے جسم میں نصب ہوجانے والی ایسی ڈیوائس ڈیزائن کی ہے جو جسم میں بلڈ شوگر کی مقدار کم ہونے پر گلوکاگن خارج کر سکتی ہے۔
یہ ڈیوائس دورانِ نیند ہائپوگلیسیمیا کے پیش آنے یا ذیابیطس کا شکار بچے جو خود کو انجیکشن نہیں لگا سکتے جیسے کیسز میں بھی مدد فراہم کر سکتی ہے۔
تحقیق کے سینئر مصنف اور ایم آئی ٹی کے پروفیسر ڈینیئل اینڈرسن کا کہنا تھا کہ سائنس دانوں کا مقصد ایسی ڈیوائس بنانا تھا جو مریضوں کو ہر وقت بلڈ شوگر کم ہونے بچائے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ ڈیوائس کئی مریضوں اور ان کے والدین کو ہائپوگلیسیمیا کے ڈر سے نکلنے میں مدد دے سکتی ہے۔
محققین نے بتایا کہ یہ ڈیوائس ایپینفرائن (دوا جو دل کے دورے کے علاج کے لیے استعمل کی جاتی ہے اور شدید الرجی کے ری ایکشن سے بھی بچا سکتی ہے) کی ایمرجنسی خوراکیں دینے کے لیے بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بلڈ شوگر سکتی ہے

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • پی ڈی ایم اے کا دورہ : انتظامیہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے، خواجہ سلمان رفیق
  • پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ