ڈیفنس میں رہائشی عمارت کی چھت سے گر کر 5 بچوں کی ماں جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
کراچی میں درخشاں کے علاقے ڈیفنس فیز فائیو بدر کمرشل دہلی ریسٹورنٹ کے قریب رہائشی عمارت سے گر کر خاتون جاں بحق ہوگئی جو کہ 5 بچوں کی ماں تھی۔
متوفیہ کی لاش ضابطے کی کارروائی کے لیے جناح اسپتال لے جائی گئی۔ ایس ایچ او درخشاں شاہد تاج نے بتایا کہ متوفیہ کی شناخت 45 سالہ ندا زوجہ ذوالفقار کے نام سے کی گئی ہے جبکہ ابتدائی تفتیش میں واقعہ عمارت کی چھت سے چھلانگ لگا کر خودکشی کا معلوم ہوتا ہے۔
متوفیہ کے شوہر نے پولیس کو بتایا کہ ندا نفسیاتی مسائل اور ذہنی دباؤ کا شکار تھی جبکہ وہ عمارت کی تیسری منزل پر رہائش پذیر ہیں اور اس کی بیوی نے چھت پر جا کر چھلانگ لگائی تھی۔
پولیس اس حوالے سے مزید چھان بین کررہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔