کوالالمپور: سابق مس گرینڈ ملائیشیا، اداکارہ اور ماڈل لیشالینی کاناران نے مندر میں پیش آنے والے ایک سنگین واقعے کا انکشاف کیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق مس گرینڈ ملائیشیا لیشالینی نے الزام لگایا ہے کہ سیلانگور کے علاقے میں واقع ماریامّن مندر کے ایک پجاری نے انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا۔

لیشالینی کے مطابق وہ حال ہی میں مذہب سے دوبارہ جڑنے کی کوشش کر رہی تھیں اور  روز مندر جارہی تھیں تاکہ وہ اپنی روایتی رسومات سیکھ سکیں۔ مذہب سے جڑے رہنے کی اس کوشش میں ایک پجاری ان کی رہنمائی کر رہا تھا، جس پر وہ بھروسہ کرتی تھیں۔

ماڈل نے انسٹاگرام پر اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ 1 جون کو پجاری نے انہیں مقدس پانی اور حفاظتی دھاگا دیا اور دعا کے بعد اپنے دفتر میں ملنے کو کہا۔

A post common by Lishalliny Kanaran (@lishallinykanaran)

لیشالینی نے بتایا کہ جب وہ اس کے دفتر گئیں تو وہاں ان پر خوشبودار پانی چھڑکا گیا جس سے ان کی آنکھوں میں جلن ہوئی اور بعد ازاں پجاری نے نازیبا انداز میں چھوتے ہوئے بلاؤز کھولنے کا مطالبہ کیا۔ انکار پر وہ مبینہ طور پر زبردستی کرنے لگا۔

لیشالینی نے بتایا کہ وہ خود کو بچاتے ہوئے وہاں سے بھاگ آئیں پھر 4 جولائی کو اپنی والدہ کو اعتماد میں لے کر پولیس میں شکایت درج کروائی۔ تاہم پولیس تحقیقات کے دوران مندر انتظامیہ نے پجاری کی موجودگی سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

مس گرینڈ ملائیشیا نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ وہ دوسروں کے لیے آواز بلند کر رہی ہیں تاکہ کوئی اور خاموش نہ رہے اور اس طرح کی ہراسانی سے بچ سکے۔ 

A post common by Lishalliny Kanaran (@lishallinykanaran)

 

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: مس گرینڈ ملائیشیا

پڑھیں:

کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم

— فائل فوٹو 

سندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔

عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔

عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔

کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔

اصل ملزمان کو بچانے کیلئے اسسٹنٹ ایکسائز افسر کو نامزد کیا گیا، وکیل

کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...

جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ