شیخ حسینہ واجد کی بیٹی پر کرپشن کے الزامات، عالمی ادارے سے رخصت پر بھیج دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
ڈھاکا:
بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی بیٹی صائمہ وزید کو عالمی ادارہ صحت نےکرپشن کے الزامات پر ہونے والی تحقیقات کے باعث ادارے کے جنوب-مشرقی ایشیا کی ریجنل ڈائریکٹر کے عہدے سے طویل رخصت پر بھیج دیا۔
ٹی آر ٹی کی رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے بتایا کہ ادارے کی جنوب-مشرقی ایشیا کی ریجنل ڈائریکٹر صائمہ وزید کو کرپشن کے الزامات پر ہونے والی تحقیقات کی وجہ سے غیرمعینہ مدت تک رخصت پر روانہ کر دیا گیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر تیدروس ایڈہانوم نے عملے کو محکمہ جاتی ای میل کے ذریعے آگاہ کیا کہ صائمہ وزید کو عہدے سے الگ کردیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر کیتھرینا بوئیہم اس دوران افسر انچارج کے طور پر خدمات انجام دیں گی۔
صائمہ وزید نے عالمی ادارہ صحت پر ریجنل ڈائریکٹرکا عہدہ جنوری 2024 میں حاصل کیا تھا اور جولائی 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خلاف کامیاب ہونے والی طلبہ تحریک کے دوران پورے خاندان پر سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔
بنگلہ دیش کے اینٹی کرپشن کمیشن(اے سی سی) نے چار ماہ قبل صائمہ وزید کے خلاف کرپشن الزامات پر باقاعدہ فرد جرم عائد کردیا تھا، ان پر فراڈ، جعل سازی اور اختیارات کا غلط استعمال کا الزام تھا۔
اے سی سی نے صائمہ وزید پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے ریجنل ڈائریکٹر کے عہدے کے لیے اپنے تعلیمی اسناد غلط پیش کیے اور ڈھاکا میں بنگلہ بندھو شیخ مجیب میڈیکل یونیورسٹی میں اعزادی عہدہ رکھنے کا بھی جھوٹا دعویٰ کیا ہے۔
یونیورسٹی نے بھی ان کے دعوے کو جھوٹا قرار دیا تھا۔
شیخ حسینہ کی بیٹی پر اس کے علاوہ ان پر اپنے سرکاری عہدے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ادارے شوچونا فاؤنڈیشن کے لیے مختلف بینکوں سے 2.
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے اس حوالے سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں عالمی ادارے صحت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ احتساب کی جانب یہ اہم اور پہلا قدم ہے لیکن پائیدار حل کے لیے ان کو عہدے سے مستقل طور پر ہٹانا ضروری ہے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے جنوب-مشرقی ایشیا کے ریجنل آفس 11 رکن ممالک پر مشتمل ہے اور خطے میں پبلک ہیلتھ اسٹریٹجی اور عمل درآمد کے حوالے سے بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عالمی ادارہ صحت ریجنل ڈائریکٹر
پڑھیں:
بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین آج بروز جمعہ کو اپنی آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی مستعفی ہو جائیں گے۔ ان کے استعفے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے عدالت سے سزا ملنے کے باوجود دسمبر میں وطن واپس آ کر خود کو قانون کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے ملک میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین جمعہ کو اپنی 5 سالہ آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔ ان کے ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صدر اپنا تحریری استعفیٰ پارلیمنٹ کے اسپیکر کو پیش کریں گے، جس کے بعد وہ فوری طور پر مؤثر ہو جائے گا۔
صدر کے استعفے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے جلاوطنی ختم کرکے رواں سال دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آنے اور عدالت کے سامنے خود کو پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔
محمد شہاب الدین کو شیخ حسینہ کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مستعفی ہونے کے بعد شیخ حسینہ کے پاس ریاست کے اعلیٰ ترین عہدوں پر کوئی اہم سیاسی اتحادی باقی نہیں رہے گا۔
شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے بعد پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس تحریک کے نتیجے میں ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا، جبکہ جماعت کے متعدد رہنما اور کارکن یا تو گرفتار ہو چکے ہیں یا روپوش ہیں۔
استعفے کی وجہ کیا ہے؟صدر کے ترجمان نے استعفے کی کوئی باضابطہ وجہ نہیں بتائی، تاہم معاملے سے باخبر 3 ذرائع کے مطابق 11 جماعتی اپوزیشن اتحاد کی طرف سے صدر سے مستعفی ہونے کے مطالبے کے بعد حکومت نے محمد شہاب الدین پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔
آئینی طریقہ کارصدر کے پریس سیکریٹری سروار عالم کے مطابق آئین کے تحت صدر کا استعفیٰ اسپیکر کو دستخط شدہ خط موصول ہونے کے بعد مؤثر ہو جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسپیکر حافظ الدین احمد کے تھائی لینڈ سے وطن واپس پہنچتے ہی صدر استعفیٰ پیش کریں گے۔
آئین کے مطابق صدر کے مستعفی ہونے کے بعد نئے صدر کے انتخاب تک پارلیمنٹ کے اسپیکر قائم مقام صدر کے فرائض انجام دیں گے۔
شیخ حسینہ کی واپسی سے سیاسی کشیدگیشیخ حسینہ نے حال ہی میں رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اور عوامی لیگ کی سینئر قیادت دسمبر کے آس پاس وطن واپس آ کر عدالت کے سامنے خود کو پیش کریں گے۔
گزشتہ نومبر میں بنگلہ دیش کے وار کرائمز ٹریبونل نے 2024 کی عوامی تحریک کو طاقت کے ذریعے کچلنے کے مقدمے میں شیخ حسینہ کو غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کارروائی میں تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے، تاہم شیخ حسینہ نے جلاوطنی کے دوران ان تمام الزامات کو مسترد کر رکھا ہے۔
موجودہ حکومت پر دباؤشیخ حسینہ کی بھارت سے ممکنہ واپسی کی خبروں کے بعد وزیراعظم طارق رحمان کی حکومت پر عوامی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے کہ سابق وزیراعظم کے باقی ماندہ بااثر اتحادیوں کو بھی اہم سرکاری عہدوں سے ہٹا دیا جائے۔
اگرچہ بنگلہ دیش میں صدر کا منصب زیادہ تر آئینی اور رسمی نوعیت کا ہے اور انتظامی اختیارات وزیراعظم اور کابینہ کے پاس ہوتے ہیں، تاہم اگست 2024 میں شیخ حسینہ کے نئی دہلی فرار ہونے کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا میں اس عہدے کی اہمیت بڑھ گئی تھی۔
2023 میں بلا مقابلہ منتخب ہوئے تھے76 سالہ محمد شہاب الدین کو 2023 میں عوامی لیگ کے امیدوار کی حیثیت سے بلا مقابلہ صدر منتخب کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے گزشتہ منگل کو وزیراعظم طارق رحمان کو اپنے استعفے کے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر کے استعفے اور شیخ حسینہ کی متوقع واپسی سے بنگلہ دیش کی سیاسی صورتحال ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین