کیا پی ٹی آئی نے مریم نواز کو اپنا “قائد” تسلیم کر لیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) صحافی عمران وسیم نے ایک اہم سوال اٹھاتے ہوئے تحریک انصاف کی سیاسی حکمت عملی پر تنقید کی ہے۔ اپنے حالیہ ٹوئٹ میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر مرزا آفریدی کے گھر ہونے والے عشائیہ میں پی ٹی آئی کی رہنما عالیہ حمزہ اور صنم جاوید کو مدعو نہیں کیا گیا، تو اس پر تحریک انصاف کی خاموشی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
عمران وسیم نے استفسار کیا کہ کیا پی ٹی آئی نے مریم نواز کو اپنا “قائد” تسلیم کر لیا ہے؟ یا پھر پی ٹی آئی، مریم نواز کی سیاست اور طرزِ حکمرانی سے مرعوب ہو چکی ہے؟
عمران وسیم کا یہ بیان سوشل میڈیا پر بحث کا باعث بن گیا ہے، جہاں کچھ حلقے اسے پی ٹی آئی کی سیاسی کمزوری قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس تنقید کو غیر ضروری قرار دے رہے ہیں۔
ابھی تک تحریک انصاف یا متعلقہ رہنماؤں کی جانب سے اس دعوے پر کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا۔
اگر مریم۔نواز کے کہنے پر مرزا آفریدی کے گھر عشاہیہ پر عالیہ حمزہ اور صنم جاوید کو نہیں بلایا گیا تو تحریک انصاف کی اس تعبیداری کو کیا سمجھا جائے کہ تحریک انصاف نے مریم نواز کو اپنا لیڈر مان لیا ہے یا پھر تحریک انصاف مریم نواز کی سیاست اور گورننس سے مرعوب ہو گئی ہے؟
— imran waseem (@imranwaseem92) July 13, 2025
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: تحریک انصاف مریم نواز پی ٹی آئی
پڑھیں:
ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
ویب ڈیسک :مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، گلگت بلتستان کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا،پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو نظر انداز کیوں کیا گیا ؟
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
میاں نوازشریف نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ،ہم نےگلگت اور ملحقہ علاقوں میں بہترین شاہراہیں بچھائی تھیں۔
چاہتا ہوں جی بی میں ترقی اور لوگوں کو روزگار ملے، 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک تعمیر کی گئی تھی ،گلگت کے عوام کا پیسہ ان پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ہم نے ہائیڈرل پاور منصوبے شروع کیے، اب تک مکمل کیوں نہیں ہوئے؟