9 مئی کیس: اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی سمیت 70 ملزمان کو 10، 10 سال قید کی سزا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
سرگودھا کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کیس میں اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان بچھڑ سمیت 70 ملزمان کو 10، 10 سال قید کی سزا سنادی گئی۔
رپورٹ کے مطابق ملزمان کے خلاف سزا کا حکم مقدمہ نمبر 72/2023 میں سنایا گیا، یہ مقدمہ ضلع میاں والی کے علاقے موسی خیل کے تھانے میں درج کیا گیا تھا۔
مقدمہ توڑ پھوڑ، املاک کو آگ لگانے اور ہنگامہ آرائی کرنے پر انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔9 مئی کے مقدمہ میں سرگودھا کی انسداد دہشت گردی عدالت سے پی ٹی آئی کے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان بچھڑ کو بھی دس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
ملک احمد خان بچھڑ کو سزا سنائے جانے کے بعد ان کی نااہلی اور ڈی سیٹ ہو نے کا امکان ہے۔9 مئی 2023 کو القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے ملک گیر احتجاج کیا گیا تھا۔
اس دوران لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں 9 مئی کو مسلم لیگ (ن) کے دفتر کو جلانے کے علاوہ فوجی، سول اور نجی تنصیبات کو نذر آتش کیا گیا، سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا تھا جب کہ اس دوران کم از کم 8 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے تھے۔
اس کے بعد ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ لڑائی، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 1900 افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا جب کہ عمران خان اور ان کی پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: گیا تھا
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔