آن لائن منشیات فروش گروہ کے 2خواتین سمیت 8ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250916-02-28
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی پولیس کے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (SIU) نے منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے آن لائن منشیات فروشی میں ملوث آٹھ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ ملزمان کی شناخت امجد، اسد، میر افغان، شاہ رخ، واسع اور محبوب کے نام سے ہوئی، گرفتار ملزمان میں دو خواتین منشیات فروش لالی اور مہرالنساء بھی شامل ہیں۔ ایس ایس پی ایس آئی یو عارف اسلم راؤ کے مطابق کارروائیاں ثمن آباد، شاہراہ نور جہاں اور سائٹ اے کے مختلف علاقوں میں کی گئیں، جن کے دوران ملزمان کے قبضے سے 26 کلو سے زائد منشیات برآمد کرلی گئیں۔ ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ گرفتار گروہ حب اور وندر سے منشیات خرید کر کراچی لاتا تھا اور شہر بھر میں آن لائن آرڈرز کے ذریعے فروخت کرتا تھا۔ یہ گروہ خاص طور پر پوش علاقوں، کالجز اور یونیورسٹیز کے طلباء کو اپنا نشانہ بناتا تھا۔ ایس ایس پی نے مزید بتایا کہ ملزمان کے خلاف اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک