WE News:
2026-07-24@13:04:42 GMT

پنجاب اسمبلی کے 26 معطل ارکان کی بحالی، کب کیا ہوتا رہا؟

اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT

پنجاب اسمبلی کے 26 معطل ارکان کی بحالی، کب کیا ہوتا رہا؟

پنجاب اسمبلی کے 26 معطل ارکان کو قائم مقام اسپیکر نے بحال کردیا ہے۔ یہ فیصلہ حکومت اور اپوزیشن کے مابین کامیاب مذاکرات کے بعد کیا گیا، جس سے اسمبلی میں جاری سیاسی تناؤ میں کمی کی توقع ہے۔

27 جون 2025 کو پنجاب اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 26 ارکان نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی تقریر کے دوران شدید احتجاج کیا۔ اس دوران ارکان نے نعرے بازی اور بدزبانی سے ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالنے کی کوشش کی، جس پر اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے رولز آف پروسیجر 1997 کے رول 210(3) کے تحت ان ارکان کی رکنیت 15 اجلاسوں کے لیے معطل کردی۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب اسمبلی: اپوزیشن کے 26 معطل ارکان کی فوری بحالی کا حکم

معطل ارکان پر الزام تھا کہ انہوں نے غیر پارلیمانی زبان استعمال کی، بجٹ دستاویزات پھاڑیں، اور ایوان میں توڑ پھوڑ کی، جس میں 8 مائیکروفونز کو نقصان پہنچا۔ اس کے نتیجے میں 10 ارکان سے قریباً 20 لاکھ 35 ہزار روپے جرمانے کے طور پر وصول کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا۔

نااہلی کا ریفرنس

معطلی کے بعد 4 جولائی 2025 کو اسپیکر ملک محمد احمد خان نے ان 26 ارکان کے خلاف الیکشن کمیشن آف پاکستان کو نااہلی کا ریفرنس بھیجا۔ یہ ریفرنس آئین کے آرٹیکل 63(2) اور 113 کے تحت دائر کیا گیا تھا، جس میں ارکان پر غیر پارلیمانی رویے، بدزبانی اور آئینی حلف کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا۔

اسپیکر نے 11 جولائی 2025 کو ان ارکان کو ذاتی سماعت کے لیے طلب کیا تاکہ وہ اپنا مؤقف پیش کر سکیں، جو آئین کے آرٹیکل 10-A کے تحت منصفانہ سماعت کے حق کے مطابق تھا۔

مذاکرات اور بحالی

بعد ازاں حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس نے 3 نشستوں کے بعد 18 جولائی 2025 کو معاہدے پر اتفاق کیا۔

اس معاہدے کے تحت اپوزیشن نے آئندہ ایوان میں پارلیمانی حدود میں رہتے ہوئے احتجاج کرنے اور غیر مہذب زبان سے گریز کرنے کا وعدہ کیا۔ جس کے بدلے میں اسپیکر نے نااہلی کے ریفرنسز واپس لینے کا فیصلہ کیا۔

20 جولائی 2025 کو اسپیکر نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہاکہ نااہلی کے الزامات کو عدالت یا ٹریبونل میں ثابت کرنا ضروری ہے، اور بغیر قانونی بنیاد کے ریفرنسز کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔

تاہم اسپیکر کی غیر موجودگی کی وجہ سے بحالی کا عمل کچھ تاخیر کا شکار ہوا۔ بالآخر آج پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں صوبائی وزیر خزانہ مجتبی شجاع الرحمان نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے ایوان میں کہاکہ اپوزیشن کے 26 ارکان کی معطلی سے عوام کا حق نمائندگی متاثر ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب اسمبلی: معطل ارکان کے معاملے پر حکومت و اپوزیشن کے مذاکرات کامیاب

انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی بھی خواہش ہے کہ ان ارکان کو عوام کا حق نمائندگی ملنا چاہیے، قائم مقام اسپیکر صاحب آپ سے درخواست ہے کہ 26 معطل ارکان کی بحالی پر نظر ثانی کی جائے، اپوزیشن کے بغیر ایوان کا ماحول دل کو نہیں لگ رہا جس کے بعد قائم مقام اسپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑ نے 26 معطل ارکان کو فوری طور پر بحال کرنے کا حکم دیا اور اپوزیشن جو کئی روز سے احتجاج پر تھی آج دوبارہ واپس اسمبلی کے ایوان میں آگئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اپوزیشن لیڈر ارکان بحال ارکان کی معطلی اسپیکر ملک احمد خان پنجاب اسمبلی ڈپٹی اسپیکر مریم نواز نااہلی ریفرنس وزیراعلٰی پنجاب وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اپوزیشن لیڈر ارکان بحال ارکان کی معطلی اسپیکر ملک احمد خان پنجاب اسمبلی ڈپٹی اسپیکر مریم نواز نااہلی ریفرنس وی نیوز پنجاب اسمبلی کے جولائی 2025 کو اپوزیشن کے معطل ارکان اسپیکر نے ایوان میں ارکان کی ان ارکان ارکان کو کیا گیا کے بعد کے تحت

پڑھیں:

آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار

آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔

یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔

اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔

شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر ڈی ایس پی صدر رحیم یارخان معطل
  • کراچی: لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران آثارِ قدیمہ کی موجودگی کا انکشاف
  • بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا اشتعال انگیز ہے، اسحاق ڈار
  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو بین الاقوامی اعزاز پر مبارکباد
  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو عالمی اعزاز پر مبارکباد
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن