اسپیکر پنجاب اسمبلی کے حکم پر اپوزیشن کے 26معطل ارکان کو بحال کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
اسپیکر پنجاب اسمبلی کے حکم پر اپوزیشن کے 26معطل ارکان کو بحال کر دیا گیا WhatsAppFacebookTwitter 0 22 July, 2025 سب نیوز
لاہور(سب نیوز)پنجاب اسمبلی کے قائم مقام اسپیکر نے اپوزیشن کے معطل کیے گئے 26 ارکان کو فوری بحال کرنے کا حکم دے دیا۔ اپوزیشن کے 26معطل اراکین کی بحالی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔وزیر پارلیمانی امور مجتبی شجاع الرحمن کا پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اپوزیشن کے 26 ارکان کی معطلی سے عوام کی حق نمائندگی متاثر ہو رہی ہے، وزیر اعلی پنجاب کی بھی خواہش ہے کہ ان ارکان کو عوام کا حق نمائندگی ملنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ قائم مقام اسپیکر صاحب آپ سے درخواست ہے کہ 26 معطل ارکان کی بحالی پر نظر ثانی کی جائے، اپوزیشن کے بغیر ایوان کا ماحول دل کو نہیں لگ رہا۔
چیف وہپ رانا محمد ارشد نے نقطہ اعتراض پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی وہ ختم نہیں ہوا، سینیٹ الیکشن میں جیت جمہوریت کی ہوئی ہے، حافظ عبد الکریم منتخب ہوکر عوام کے مسائل ایوان بالا میں حل کریں گے۔قبل ازیں، وزیر پارلیمانی امور نے اسپیکر سے درخواست کی تھی جس میں کہا تھا کہ میں اس معزز ایوان کی توجہ ایک نہایت اہم اور نازک معاملے کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ حالیہ دنوں میں اپوزیشن کے 26 معزز اراکینِ اسمبلی کی معطلی کا جو معاملہ سامنے آیا ہے، اس سے ان عوامی حلقوں کی نمائندگی بھی متاثر ہو رہی ہے، جنہوں نے ان اراکین کو اپنے قیمتی ووٹوں سے اس ایوان میں بھیجا۔خط میں لکھا تھا کہ جناب اسپیکر! ان اراکین نے عوام کے مینڈیٹ کے تحت یہ ذمہ داری سنبھالی ہے کہ وہ اپنے حلقوں کے مسائل، آواز اور توقعات اس معزز ایوان تک پہنچائیں۔
حکومت اور وزیراعلی پنجاب اس بات پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ کسی بھی منتخب نمائندے کا اولین فریضہ اپنے رائے دہندگان کی نمائندگی ہے اور اس رکن اسمبلی کے ذاتی فعل کی وجہ سے ان رائے دہندگان کی نمائندگی متاثر نہیں ہونے چاہیے۔وزیر کے خط کے مطابق حکومت اس ایوان کے وقار، جمہوری اقدار اور عوامی نمائندگی کے تسلسل کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ سے مدبانہ درخواست کرتی ہے کہ ان 26 معزز اراکینِ اسمبلی کی معطلی کے فیصلے پر نظرِ ثانی فرمائی جائے، اور انہیں بحال کرتے ہوئے ایوان کی کارروائی میں شرکت کی اجازت دی جائے تاکہ وہ اپنے حلقوں کی ترجمانی کا فریضہ پوری آزادی اور وقار کے ساتھ انجام دے سکیں۔واضح رہے کہ معطل ارکان کی بحال کے لیے صوبائی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے ایک سے زائد دور چلے جس کے بعد معاملات طے پائے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرقلات میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں فتنہ الہندوستان کے 8دہشت گرد ہلاک قلات میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں فتنہ الہندوستان کے 8دہشت گرد ہلاک قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی عمر ایوب خان کا گلگت بابوسر روڈ پر سیلابی ریلے سے جانی و مالی نقصان پر اظہارِ افسوس اپوزیشن لیڈر ملک احمد بچھڑ کا سزا کا فیصلہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان پولیس کا اصل امتحان میدانِ عمل میں ہوگا، عام آدمی کو انصاف فراہم کرنا ہے،وزیراعظم امیر البحر سے سربراہ سعودی بحریہ کی ملاقات، دفاعی تعلقات مضبوط بنانے کا عزم بارشوں سے تباہی کے دوران بھارت کی پانی چھوڑنے کی دھمکی، منگلا اور تربیلا ڈیم پر الرٹ جاریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اپوزیشن کے اسمبلی کے ارکان کو
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔