لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )خیبرپختونخوا اسمبلی میں سینیٹ کی 11 نشستوں پر حکومت اور اپوزیشن کا 6-5 کا فارمولا کام کر گیاہے لیکن اس دوران ووٹ ڈالنے کا جو طریقہ کار اپنا یا گیا وہ نہایت حیران کن تھا تاکہ اراکین اسمبلی کو پھسلنے سے روکا جا سکے ۔

مقامی ویب سائٹ کے رپورٹ لحاظ علی نے بتایا کہ  21 جولائی 2025 کو  کے پی کے اسمبلی میں سینیٹ کے انتخابات کے دوران اراکین کی پھسلن کو روکنے کیلئے ایک طریقہ اپنایا گیا ، جس پر حکومت اور اپوزیشن دونوں نے عمل درآمد کیا ، جس شخص نے پہلا ووٹ کاسٹ کیا تھا اس نے اپنا ووٹ بیلٹ باکس میں ڈالنے کی بجائے ایک خالی سفید کاغذ ڈالا، پھر اپنا ووٹ جیب میں ڈال کر اندر لے گیا، جہاں ایک اعلیٰ شخصیت بیٹھی تھی اس نے بیلٹ پیپر پر اپنی مرضی کے مطابق امیدوار کے نام کے آگے ٹک لگایا، وہ ووٹ اس نے اگلے رکن اسمبلی کو دیا ، دوسرے نمبر پر ووٹ ڈالنے جانے والے رکن اسمبلی نے یہ  نشان زدہ بیلٹ پیپر باکس میں ڈال دیا اور  اپنا بیلٹ پیپر جیب میں ڈال کر واپس کمرے میں لے آیا اور اس اعلیٰ شخصیت کے حوالے کیا، یہ چکر پورا دن چلتا رہا ، کم از کم 140 اراکین نے اپنا ووٹ نہیں بلکہ اپنے سے پہلے والے رکن کا ووٹ کاسٹ کیا، یہ اس لیئے کیا گیا تاکہ کوئی رکن اسمبلی پھسل نہ جائے اور وہ خود اپنا ووٹ کاسٹ نہ کر سکے بلکہ دوسرا رکن اسمبلی اس کا ووٹ بیلٹ باکس میں ڈالے ۔

بارشوں اور سیلاب سے قیمتی جانوں کا ضیاع، پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کی قیادت کا اظہارِ افسوس

اپوزیشن اور حکومت کا اس متعلق مکمل طور پر اتفاق تھا کہ اراکین اسمبلی کو پھسلن کو دور کرنے کیلئے یہ طریقہ اپنایا گیا،  یہ طریقہ 2012 اور 2015 میں بھی اپنایا گیا تھا لیکن 2018 میں اس طریقہ کار سے انکار کیا گیا،  جس کے باعث 20 سے زائد اراکین پھسل گئے ، آخری رکن اسمبلی ، جس نے سب سے آخر میں ووٹ کاسٹ کرنا تھا اس نے اپنے آخری ووٹ کے بجائے 2 ووٹ کاسٹ کیئے ، جس کے تحت حکومت اور اپوزیشن کا فارمولا 6-5 کامیاب ہوا، اپوزیشن لیڈر ، اہم شخصیت اور وزیراعلیٰ پورا دن ایوان کے اندر ہی موجود رہے ۔

بلوچستان میں غیرت کے نام پر خاتون کے قتل پر مذمتی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرا دی گئی

خیبرپختونخوا کے سینٹ انتخابات کے دوران علی امین گنڈا پور نے انتہائی چالاکی کا مظاہرہ کیا۔
اراکین اسمبلی کی ممکنہ بے وفائی کا مقابلہ کرنے کے لیے حیرت انگیز طریقہ کار اپنایا گیا؟ ہر رکن اسمبلی نے اپنا نہیں دوسرے ایم پی اے کا ووٹ پول کیا ۔ pic.

twitter.com/gC4wVh8YFE

— Waseem Abbasi (@Wabbasi007) July 22, 2025

مزید :

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: رکن اسمبلی اپنایا گیا ووٹ کاسٹ اپنا ووٹ باکس میں کا ووٹ

پڑھیں:

پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع

توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن