دوران پرواز 35 ہزار فٹ کی بلندی پر طیارے میں بچے کی پیدائش
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
ممبئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 جولائی2025ء)ایک بھارتی ایئرلائن کی پرواز میں 35 ہزار فٹ کی بلندی پر تھائی خاتون نے بچے کو جنم دے دیا۔مسقط سے ممبئی آنے والی پرواز میں ایک جذباتی لمحہ پیش آیا جب دورانِ پرواز ایک تھائی خاتون نے بچے کو جنم دیا، اس وقت پرواز 35 ہزار فٹ کی بلندی پر تھی۔ بھارتی ایئر لائن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں بتایا گیا کہ خاتون کو لیبر پین شروع ہونے پر فضائی عملے نے فوری طور پر صورتحال کا ادراک کیا اور دیگر مسافروں کو نشستیں خالی کرنے کی درخواست کی۔
مسافروں سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ خاتون اور نومولود کی پرائیویسی کا خیال رکھتے ہوئے موبائل فون بند رکھیں، عملے نے فوری عارضی حفاظتی انتظامات کیے، خوش قسمتی سے پرواز میں ایک نرس بھی موجود تھی، جنہوں نے عملے کی مدد سے بچے کی ولادت مکمل کروائی۔(جاری ہے)
رات 3 بج کر 15 منٹ پر بچے کی ولادت ہوئی اور صبح 4 بجے کے قریب جہاز ممبئی ایئرپورٹ پر اترا۔ پائلٹس نے پہلے ہی ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کر کے ترجیحی لینڈنگ کی اجازت حاصل کر لی تھی۔
ایئرپورٹ پر ایمبولینس اور طبی عملہ موجود تھا، جنہوں نے ماں اور بچے کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا۔ایئرلائن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا جس پر ہماری ٹیم نے جس مہارت، ہمدردی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔