شائقین کے ہاتھوں میں پاکستانی پرچم دیکھ کر بھارتی گلوکار کرن اوجلا کا ردعمل کیا تھا؟
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
ایک ایسی دنیا میں جہاں سرحدیں اور سیاست اکثر انسانوں کو تقسیم کرتی ہیں، وہ لمحات خوش آئند ہوتے ہیں جب فن ہمیں ہماری مشترکہ انسانیت کی یاد دلاتا ہے.
بھارت اور پاکستان کے درمیان جاری کشیدگی کے ماحول میں، معروف پنجابی گلوکار اور ریپر کرن اوجلا نے سرحد پار اپنے مداحوں کو تسلیم کرتے ہوئے اتحاد اور بھائی چارے کا خوشگوار پیغام دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی عدالت نے پاکستانی فنکاروں اور گلوکاروں کو خوشخبری سنا دی
حال ہی میں ایک غیر ملکی کنسرٹ کے دوران، کرن اوجلا نے اس وقت اسٹیج پر گانا روک کر اپنا مثبت ردِعمل دیا جب ایک مداح نے ہجوم میں پاکستانی پرچم لہرایا۔
#Punjabi singer Karan Aujla shared a message of love and unity for all Punjabis with his #Pakistani Punjabi fans who attended his show.
— Punjab Beyond (@punjabbeyond) July 24, 2025
انہوں نے اس موقع پر کہا ’ہمارے پاکستانی بھائی بھی یہاں موجود ہیں، ہم ایک جیسے ہیں، ہم ایک قوم ہیں، ایک خون ہیں، ان کے اس جملے پر ہال میں زور دار تالیاں اور خوشی کے نعرے گونجنے لگے۔
مداحوں کا مثبت ردعملبھارت اور پاکستان دونوں ملکوں کے مداحوں نے کرن اوجلا کے ان الفاظ کا گرمجوشی سے خیر مقدم کیا، انسٹاگرام پر ایک صارف نے لکھا کہ بھارتی فنکاروں کا دل بڑا ہوتا ہے جبکہ دیگر صارفین نے تبصروں میں سبز دل کے ایموجیز سے یکجہتی اور امن کا اظہار کیا۔
آن لائن تنقید اور خدشاتتاہم، اس لمحے نے سوشل میڈیا پر بحث بھی چھیڑ دی، کچھ افراد نے کرن اوجلا کے لیے تحفظات کا اظہار ان الفاظ میں کیا، اب بھارتی حکومت ان کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ ان پر بھارت میں کس قسم کی تنقید ہوتی ہے۔
دوسری جانب بعض صارفین نے ان کے بیان کو سراسر مسترد کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ ہم ایک قوم یا ایک خون نہیں ہیں۔ بلکہ ہم ایک دوسرے سے مکمل طور پر مختلف ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان پاکستانی پرچم پرچم پنجابی گلوکار سوشل میڈیا کرن اوجلا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستانی پرچم پنجابی گلوکار سوشل میڈیا کرن اوجلا کرن اوجلا ہم ایک
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔