دلہن کو لینے تین دلہا تھانے میں پہنچ گئے، چونکا دینے والے انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
حیدر آباد(نیوز ڈیسک)حیدرآباد کے علاقے حالی روڈ پر ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے سب کو حیران کر دیا۔ ایک ہی لڑکی سے شادی کے دعویدار تین دلہا ایک ساتھ تھانے پہنچ گئے۔ نہ صرف یہ کہ وہ ایک ہی دلہن کے امیدوار نکلے بلکہ لاکھوں روپے کے فراڈ کا بھی شکار ہوئے۔ پولیس کے مطابق کراچی، دادو اور حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے تین افراد، عبدالجبار، میر بخش اور ایک تیسرے دلہا نے الگ الگ اوقات میں ایک ہی لڑکی سے شادی کا رشتہ طے کیا۔ کل ملا کر تقریباً آٹھ لاکھ روپے جہیز، رسم اور شادی کے اخراجات کے نام پر ادا کیے گئے۔ کراچی کے عبدالجبار نے بتایا کہ اس نے رشتہ طے ہونے پر دو لاکھ ساٹھ ہزار روپے ادا کیے جبکہ دیگر دلہوں نے بھی بھاری رقوم لڑکی اور اس کے گھر والوں کو دی تھیں۔ایس ایچ او حالی روڈ کے مطابق معاملے کی سنگینی دیکھتے ہوئے پولیس نے فوری کارروائی کی، لڑکی اور اس کی والدہ کو گرفتار کر لیا جبکہ دو دیگر افراد کو بھی حراست میں لیا گیا۔ مقدمات درج کرکے قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ گرفتار لڑکی نے ابتدائی بیان میں کہا کہ وہ رشتے کرواتی ہے اور اس نے صرف ایک شخص سے رشتہ طے کیا تھا۔ دوسری جانب لڑکی کی والدہ نے کہا کہ اصل پیسے ظفر کھوسو نامی شخص نے لیے جو ان افراد کے ساتھ آیا تھا۔اس واقعے نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کر دیا ہے اور لوگ حیرت کے ساتھ ساتھ افسوس کا اظہار کر رہے ہیں کہ شادی کے نام پر کس طرح معصوم افراد کو لوٹا جا رہا ہے۔ یہ کیس نہ صرف شادی کے نام پر ہونے والے فراڈ کو بے نقاب کرتا ہے بلکہ لوگوں کے لیے ایک وارننگ بھی ہے کہ جذبات سے زیادہ عقل اور تحقیق کو ترجیح دیں اور ایسے معاملات میں پیسوں کا لین دین ہمیشہ مکمل تصدیق اور قانونی تحفظ کے ساتھ کریں۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شادی کے
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔