اسلام آباد: باپ سمیت پانی میں بہہ جانے والی لڑکی تاحال لاپتا، 5ویں روز بھی تلاش جاری
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
اسلام آباد کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے باپ سمیت پانی میں بہہ جانے والی لڑکی کی تلاش کا اپریشن پانچویں روز بھی جاری ہے، اپریشن کے لیے ٹیموں کو تعینات کر دیا گیا۔
امدادی ذرائع نے کہا کہ پہلی ٹیم گاڑی ڈوبنے سے 600 میٹر کی حدود میں لڑکی کی تلاش کرے گی، پہلی ٹیم نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے فیز8 اور 4 میں سواں پل کے نیچے بھی لڑکی کی تلاش کرے گی۔
دوسری ٹیم جی ٹی روڈ پر سواں پل سے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے فیس فور میں مشرق کی جانب سرچ کرے گی۔
تیسری ٹیم جی ٹی روڈ پر سواں پل سے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے فیز4میں مغرب کی جانب لڑکی کی تلاش کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کرے گی
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔