صدر کی سعودی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
صدر آصف علی زرداری نے سعودی سرمایہ کاروں کو پاکستانی معیشت کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی ہے۔وہ سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی سے گفتگو کر رہے تھے جنہوں نے جمعہ کو اسلام آباد میں ان سے ملاقات کی۔
صدر نے کہا کہ دونوں ممالک علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر مشترکہ خیالات رکھتے ہیں اور کثیرالجہتی فورمز پر ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب مشترکہ ایمان اور باہمی اعتماد پر مبنی گہرے اور تاریخی تعلقات کے حامل ہیں۔ انہوں نے دونوں برادر ممالک کے باہمی فائدے کے لیے ان تعلقات کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
صدر آصف علی زرداری نے مشکل کی گھڑی میں پاکستان کی حمایت پر سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے سفیر سے یہ بھی کہا کہ وہ حرمین شریفین کے متولی شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو اپنا پرتپاک مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کریں۔اجلاس میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی شرکت کی۔
اشتہار
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ اور اتحاد امت فورم کے رہنما علامہ سید جواد نقوی نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب سے ملاقات کی اور ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت و تسلیت، فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی۔ علامہ سید جواد نقوی نے علامہ سید ساجد علی نقوی کیساتھ 13 جون کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔