معروف بالی وڈ اداکارہ کرشمہ کپور اور ان کے آنجہانی سابق شوہرسنجے کپور کی ازدواجی زندگی ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئی ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق سنجے کپور کی اچانک موت کے بعد ہدایتکار سنیل درشن نے کرشمہ سے ان کے رشتے کے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں جنہوں نے تہلکہ مچا دیا ہے۔

کرشمہ کیساتھ بطور ہدایتکار کئی فلموں میں کام کرنے والے سنیل درشن کا کہنا ہے کہ کرشمہ شادی کے بعد اپنی شناخت سے محرومی کا شکار تھیں۔ وہ ایک سادہ، گھریلو زندگی گزارنا چاہتی تھیں، مگر عملی طور پر وہ ایک ’ٹرافی وائف‘ بن کر رہ گئیں جوکہ انہیں بلکل پسند نہیں تھا۔

سنیل کے مطابق کرشمہ اور سنجے کی شادی کا فیصلہ غیرمتوقع تھا اور دونوں کی شخصیت اور زندگی کے نظریات مختلف تھے۔ دہلی سے تعلق رکھنے والی سنجے کی بہن کرشمہ کی بچپن کی سہیلی تھیں مگر اپنی سہیلی کے بھائی سے شادی کے بعد دہلی کے شاہانہ طرزِ زندگی میں کرشمہ خود کو ایڈجسٹ نہیں کر پائیں۔

2003 میں شادی کے بندھن میں بندھنے والے اس جوڑے کی راہیں 2016 میں باضابطہ طور پر جدا ہوئیں اس دوران ان کے ہاں ایک بیٹی اور بیٹے کی پیدائش بھی ہوئی۔

سنیل درشن کا کہنا تھا کہ اگرچہ علیحدگی کے وقت سنجے پر کرشمہ کو اپنے دوستوں کے ساتھ سونے کیلئے مجبور کرنے اور تشدد کے الزامات سامنے آئے تاہم طلاق کے بعد دونوں کی درمیان صلح ہوگئی اور انہوں نے بچوں کی پرورش کے لیے تعلقات بہتر بنائے۔ سنجے نے دوسری شادی کرلی تاہم کرشمہ تاحال ایک سنگل مدر کے طور پر زندگی گزار رہی ہیں۔

یاد رہے کہ سنجے کپور کی اچانک موت پر کرشمہ کپور نے اپنے بچوں کے ہمراہ ان کی آخری رسومات اور دعائیہ تقریب میں شرکت کی، جو دونوں کے درمیان بہتر تعلقات کا ثبوت ہے۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سنجے کپور سنیل درشن کے بعد

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • 20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • زندگی کا مقصد
  • میسی ارجنٹائن کے صدر بنیں گے؟ نئی پیشگوئی نے سب کو حیران کردیا
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر